لاہور ہائیکورٹ کے بہاولپور بینچ نے آٹھویں جماعت کی طالبہ سے مبینہ زیادتی کے مقدمے میں گرفتار اسکول ٹیچر کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اہم ریمارکس دیے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ایسے سنگین نوعیت کے مقدمات میں ملزم کی رہائی نہ صرف متاثرہ طالبہ بلکہ دیگر طلبہ و طالبات کے لیے بھی خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر ملزم کو ضمانت پر رہا کیا گیا تو وہ مستقبل میں دیگر بچوں کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔عدالتی فیصلے میں تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی بھرتی کے طریقہ کار پر بھی زور دیا گیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ اساتذہ کی تقرری سے قبل ان کا پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ اور نادرا ریکارڈ لازمی طور پر چیک کیا جائے تاکہ ماضی میں جرائم میں ملوث افراد کو تعلیمی اداروں میں ذمہ داریاں نہ سونپی جائیں۔
لاہور ہائیکورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگر ماضی کے مجرموں کو تعلیمی اداروں میں ملازمت دی جاتی رہی تو اسکول اور دیگر تعلیمی مراکز بچوں کے لیے غیر محفوظ ہو جائیں گے۔ عدالت نے بچوں کے تحفظ کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو احتیاطی اقدامات یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔عدالت کے فیصلے کے بعد ملزم بدستور عدالتی تحویل میں رہے گا جبکہ مقدمے کی مزید کارروائی قانون کے مطابق جاری رہے گی۔
