ایرانی صدر مسعود پزشکیان آج پاکستان کے ایک روزہ اہم دورے پر اسلام آباد پہنچ رہے ہیں، جہاں وہ ملکی اعلیٰ سیاسی و حکومتی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال کے تناظر میں یہ صدر پزشکیان کا پہلا غیر ملکی دورہ قرار دیا جا رہا ہے۔
الجزیرہ کی خصوصی رپورٹ کے مطابق یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان 60 روزہ فریم ورک پر پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کا مقصد ایک جامع اور حتمی معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے۔رپورٹ کے مطابق ایرانی صدر اپنے دورہ پاکستان کے دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف، صدر آصف علی زرداری، سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ ملاقاتوں میں دوطرفہ تجارت، توانائی کے شعبے میں تعاون، سرحدی سیکیورٹی، علاقائی روابط اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ حالیہ سفارتی سرگرمیوں کے دوران پاکستان نے ثالثی اور رابطہ کاری کے کردار کے ذریعے خطے میں اپنی اہمیت کو مزید مستحکم کیا ہے، جس کے باعث اس کی سفارتی حیثیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ایران نے بھی پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے اسے ایک اہم سفارتی شراکت دار قرار دیا ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان اور ایران کے تعلقات میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور سیکیورٹی تعاون کے مختلف شعبوں میں روابط مزید مضبوط ہوئے ہیں۔یاد رہے کہ 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر متعدد پابندیاں قبول کی تھیں، تاہم 2018 میں امریکا کی جانب سے معاہدے سے علیحدگی کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں دوبارہ کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔تجزیہ کاروں کے مطابق صدر مسعود پزشکیان کا یہ دورہ نہ صرف ایران کے لیے عالمی سطح پر سیاسی حمایت اور معاشی مواقع بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے بلکہ پاکستان کے لیے بھی خطے میں ایک ذمہ دار اور مؤثر سفارتی کردار ادا کرنے کے تاثر کو مزید مضبوط بنانے کا موقع فراہم کرے گا۔
