Baaghi TV

ایرانی صدر کا دورہ پاکستان، سفارتی توازن کی کامیاب حکمتِ عملی قرار

اسلام آباد: ایران اور اسرائیل کے درمیان گزشتہ برس ہونے والی جنگ کے بعد خطے کی بدلتی ہوئی سفارتی صورتحال میں پاکستان کا کردار ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ مبصرین کے مطابق پاکستان نے نہ صرف ایران کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات برقرار رکھے بلکہ امریکا کے ساتھ بھی مثبت روابط قائم رکھ کر ایک متوازن سفارتی حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر تھی اور امریکا بھی تنازع میں شامل ہوگیا تھا تو پاکستان کے حوالے سے مختلف خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا۔ بعض حلقوں کا خیال تھا کہ پاکستان کو ایران کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، تاہم بعد کے واقعات نے ان خدشات کو غلط ثابت کیا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے اس دوران اپنے بین الاقوامی روابط کو کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے فروغ کے لیے استعمال کیا۔ تہران میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ مشکل حالات میں پاکستان کی سیاسی اور سفارتی حمایت ایران کے لیے مددگار ثابت ہوئی۔

مبصرین کے مطابق یہی وجہ ہے کہ ایرانی صدر مسعود پژشکیان نے جنگ کے بعد اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے لیے پاکستان کا انتخاب کیا۔ ان کے دورۂ اسلام آباد کو دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات اور باہمی اعتماد کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔دوسری جانب پاکستان نے امریکا کے ساتھ بھی اپنے تعلقات کو برقرار رکھا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد نے خطے کی پیچیدہ صورتحال میں کسی ایک فریق کا حصہ بننے کے بجائے متوازن خارجہ پالیسی اپنائی، جس کے باعث وہ مختلف عالمی طاقتوں کے درمیان رابطے کا ایک اہم مرکز بن کر ابھرا۔سیاسی مبصرین کے مطابق ایرانی صدر کے دورۂ پاکستان سے نہ صرف اسلام آباد اور تہران کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے بلکہ خطے میں سفارتی تعاون اور استحکام کے نئے امکانات بھی پیدا ہوں گے۔

More posts