فتنہ الہندوستان کی حمایت یافتہ بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے ریاست مخالف ’’مسنگ پرسنز‘‘ بیانیے کو ایک بار پھر شدید دھچکا پہنچا ہے، جب تنظیم کی جانب سے لاپتہ قرار دیے گئے ایک شخص کے بارے میں نئی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق بلوچ یکجہتی کمیٹی نے 17 اگست 2025 کو یوسف نامی شخص کو جبری گمشدگی کا شکار قرار دیتے ہوئے اس کی گمشدگی کا الزام ریاستی اداروں پر عائد کیا تھا۔ یوسف کو بی وائی سی کے احتجاجی دھرنوں اور بیانات میں بطور ’’لاپتہ فرد‘‘ پیش کیا جاتا رہا۔تاہم بعد ازاں سامنے آنے والی معلومات کے مطابق یوسف درحقیقت 2025 میں بھارتی پراکسی دہشت گرد تنظیم فتنہ الہندوستان میں شامل ہوا تھا، جس کا اعتراف خود تنظیم کی جانب سے بھی کیا گیا۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یوسف 5 مارچ 2026 کو ضلع پنجگور میں سیکیورٹی فورسز پر کیے گئے ایک دہشت گردانہ حملے کے دوران مارا گیا۔ذرائع کے مطابق اس واقعے کے بعد بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اس دعوے پر سوالات اٹھ رہے ہیں کہ جن افراد کو ’’لاپتہ‘‘ قرار دیا جاتا ہے، ان میں سے بعض بعد میں دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ وابستہ پائے جاتے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یوسف کے معاملے نے ایک بار پھر مسنگ پرسنز سے متعلق پیش کیے جانے والے بعض بیانیوں کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔
سیکیورٹی حلقوں کے مطابق ریاستی ادارے دہشت گردی کے خاتمے اور امن و استحکام کے قیام کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ ایسے واقعات حقائق کی بنیاد پر تحقیقات اور معلومات کی تصدیق کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔
