پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کے معروف مصنف خلیل الرحمٰن قمر ایک بار پھر اپنے متنازع بیان کے باعث سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔
حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے شادی، بے وفائی اور مرد و خواتین کے سماجی کردار سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا، جس پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔گفتگو کے دوران جب ان سے مردوں کی شادی کے بعد بے وفائی کے رجحان سے متعلق سوال کیا گیا تو خلیل الرحمٰن قمر نے اس مسئلے کا ذمہ دار خواتین کو بھی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ “مرد آخر دھوکا دیتے کس کے ساتھ ہیں؟ یقیناً دوسری عورتوں کے ساتھ، لیکن اکثر اوقات ان خواتین کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے جو شادی شدہ مردوں کی زندگی میں مداخلت کرتی ہیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کو ان عورتوں کے خلاف بھی آواز اٹھانی چاہیے جو شادی شدہ مردوں کے ساتھ تعلقات قائم کرتی ہیں اور خاندانوں کے بکھرنے کا سبب بنتی ہیں۔
خلیل الرحمٰن قمر نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ مرد بعض اوقات جذباتی یا سماجی دباؤ کے باعث غلط فیصلے کر بیٹھتے ہیں اور ان کے مطابق مردوں میں اتنی “قوتِ ارادی” نہیں ہوتی کہ وہ عورتوں کی توجہ یا پیشکش کو رد کر سکیں، جس کے نتیجے میں بے وفائی جیسے واقعات سامنے آتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اکثر خواتین اپنے شوہروں کی غلطیوں کو بڑے دل سے معاف کر دیتی ہیں، تاہم ان کے پاس رشتہ ختم کرنے کا اختیار بھی موجود ہوتا ہے۔
ان کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ متعدد صارفین نے ان کے مؤقف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے یک طرفہ اور غیر منصفانہ قرار دیا ہے، جبکہ کچھ افراد نے اس رائے کو معاشرتی حقیقت کے طور پر پیش کیا ہے۔
