انڈونیشیا کے شمالی مالوکو صوبے کے جزیرے ہالماہیرا میں واقع فعال آتش فشاں ماؤنٹ ڈوکو نو میں جمعہ کی صبح ایک زور دار آتش فشانی دھماکے کے نتیجے میں کم از کم تین افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ ایک بڑے ریسکیو آپریشن کے ذریعے درجن سے زائد پھنسے ہوئے سیاحوں کو بچانے کی کوششیں جاری رہیں۔
مقامی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سنگاپور کے شہری اور ایک انڈونیشیائی شہری بھی شامل ہیں، تاہم قومی سرچ اینڈ ریسکیو ادارے نے تاحال اموات اور شناخت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔پولیس چیف ارلیخسن پاساریبو کے مطابق واقعے کے وقت مجموعی طور پر 20 کے قریب سیاح ماؤنٹ ڈوکو نو کی چڑھائی پر موجود تھے، جن میں 9 غیر ملکی اور 11 مقامی افراد شامل تھے۔بعد ازاں حکام نے تصدیق کی کہ 15 سیاح محفوظ طور پر نیچے اترنے میں کامیاب ہو گئے، تاہم تین افراد کی لاشیں ابھی تک آتش فشاں کے خطرناک علاقے میں موجود ہیں۔مزید بتایا گیا ہے کہ دو دیگر کوہ پیما اب بھی پہاڑ پر موجود ہیں اور ریسکیو ٹیموں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ آتش فشاں کے دہانے سے دھوئیں اور راکھ کا ایک بہت بڑا بادل آسمان کی طرف اٹھ رہا ہے۔ انڈونیشیائی گائیڈ الیکس دجنگو کے مطابق دھماکے سے قبل شدید زمینی جھٹکے محسوس ہوئے۔
انہوں نے بتایا “میں نے دیکھا کہ چھوٹے پتھر اور مٹی نیچے کی طرف لڑھک رہی تھی، میں نے فوراً اپنے کلائنٹس کو نیچے بھاگنے کا کہا، یہ بہت خوفناک لمحہ تھا۔”انہوں نے مزید کہا کہ کچھ سیاح اس وقت بھی کریٹر کے قریب ویڈیوز بنا رہے تھے۔
ماؤنٹ ڈوکو نو انڈونیشیا کے سب سے زیادہ فعال آتش فشاؤں میں سے ایک ہے اور ماہرین کے مطابق مارچ کے آخر سے اس کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا تھا۔مقامی گائیڈز کے مطابق جب یہ آتش فشاں چند دن خاموش رہتا ہے تو اس کے بعد اچانک بڑا دھماکہ ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، اور یہی صورتحال اس واقعے سے پہلے بھی دیکھی گئی۔واضح رہے کہ انڈونیشیا دنیا کے اس خطرناک زون میں واقع ہے جسے “رِنگ آف فائر” کہا جاتا ہے، جہاں زلزلے اور آتش فشانی واقعات عام ہیں۔ یہ زون جاپان، انڈونیشیا، امریکہ اور جنوبی امریکہ تک پھیلا ہوا ہے اور دنیا کے سب سے زیادہ زلزلہ خیز علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔
