Baaghi TV

بھارتی ریاستوں کے حالیہ انتخابات، ہندو مسلم سیاسی تقسیم بے نقاب

india election

بھارتی ریاستوں میں ہونے والے حالیہ انتخابات کے غیر سرکاری نتائج نے ایک بار پھر ملک کی سیاست میں مذہبی بنیادوں پر گہری تقسیم کو اجاگر کر دیا ہے۔ مختلف سیاسی و سماجی تجزیہ کاروں کے مطابق ان نتائج سے ہندو اور مسلم ووٹرز کے درمیان واضح سیاسی رجحانات سامنے آئے ہیں، جو بھارت کے جمہوری اور انتخابی منظرنامے میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق حالیہ انتخابات میں مسلم ووٹرز کی بڑی تعداد نے اپوزیشن جماعتوں، خصوصاً کانگریس اور بعض علاقائی جماعتوں کی حمایت کی ہے۔ مبصرین کے مطابق اس رجحان کی ایک بڑی وجہ یہ تاثر ہے کہ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتیں نسبتاً سیکولر سیاسی سوچ رکھتی ہیں اور اقلیتوں کی نمائندگی کے حوالے سے زیادہ قابلِ قبول سمجھی جاتی ہیں۔دوسری جانب ہندو ووٹرز کی اکثریت نے حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حمایت جاری رکھی ہے، جسے مبصرین ہندو قوم پرست سیاسی بیانیے اور مضبوط تنظیمی ڈھانچے کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی جے پی گزشتہ برسوں میں قومی اور ریاستی سیاست میں نمایاں برتری حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ اس دوران بعض ریاستوں میں پارٹی کی جانب سے مسلم امیدواروں کو محدود یا نہ کے برابر ٹکٹ دینے کی حکمت عملی بھی دیکھی گئی ہے۔بی جے پی رہنماؤں کے مطابق یہ فیصلے سیاسی زمینی حقائق اور ووٹرز کے عمومی رجحانات کو مدنظر رکھ کر کیے جاتے ہیں۔ تاہم اپوزیشن جماعتیں اس حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ اس سے اقلیتی نمائندگی متاثر ہو سکتی ہے اور سیاسی شمولیت کے حوالے سے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انتخابی سیاست میں مذہبی بنیادوں پر تقسیم جمہوری اصولوں کے لیے ایک چیلنج ہے۔ ان کے مطابق اگر سیاسی جماعتیں تمام طبقات کو برابر نمائندگی نہ دیں تو سماجی فاصلے مزید بڑھ سکتے ہیں۔

سیاسی مبصرین اس رجحان کو “ریورس پولرائزیشن” کے طور پر بیان کر رہے ہیں، جس میں ووٹرز تیزی سے نظریاتی اور مذہبی شناختوں کی بنیاد پر تقسیم ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ رجحان بھارت کی ریاستی سیاست میں ایک گہری تبدیلی کی علامت ہے۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس تقسیم کو کم کرنے کے لیے مؤثر سیاسی اور سماجی اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں یہ خلیج مزید وسیع ہو سکتی ہے، جس کے اثرات نہ صرف انتخابات بلکہ مجموعی سماجی ہم آہنگی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

More posts