امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایران کو جوہری صلاحیت سے محروم کرنے کے اپنے ہدف پر قائم ہے، چاہے اس مقصد کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنا ممکن ہو یا نہ ہو۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو امریکا اپنے مقاصد کسی معاہدے کے بغیر بھی حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں یوکرین کے صدر کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کا بنیادی مقصد ایران کی "غیر جوہری حیثیت” کو یقینی بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایرانی مذاکراتی ٹیم کے رویے سے مایوس ہیں اور ان کے بقول بند کمرے میں ہونے والی بات چیت کے حوالے سے ایرانی وفد نے درست معلومات فراہم نہیں کیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا، "مجھے نہیں معلوم کہ کوئی معاہدہ ہوگا یا نہیں، ممکن ہے ہم یہ مقصد کسی معاہدے کے بغیر ہی حاصل کر لیں، کیونکہ شاید ایسا کرنا زیادہ آسان ہو۔” تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہو گئے تو امریکا کن اقدامات کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرے گا۔
امریکی صدر نے ایران پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایرانی حکام کے موجودہ طرزِ عمل سے مطمئن نہیں ہیں۔ ان کے مطابق ایران کا رویہ تشویش کا باعث ہے، تاہم امریکا کی خواہش ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ صرف یہ یقینی بنانا ہے کہ تہران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔
ٹرمپ کے ان بیانات نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی کشیدگی کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات تعطل کا شکار رہے تو دونوں ممالک کے درمیان تناؤ مزید بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ کی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
ادھر ایران کی جانب سے صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اختلافات کے باوجود سفارتی ذرائع سے مسئلے کا پرامن حل تلاش کیا جائے گا۔
ٹرمپ کا ایران کو معاہدے کے بغیر غیر جوہری بنانے کا عندیہ
