افغانستان کے جنوبی شہر قندھار کے مضافات میں ایک شخص کے مبینہ روحانی علاج کے دعوؤں نے لوگوں کی بڑی تعداد کو اپنی جانب متوجہ کر لیا ہے، جہاں مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد شفا کی امید لے کر پہنچ رہے ہیں۔ ایک سادہ سے گھر کے باہر روزانہ درجنوں افراد جمع ہوتے ہیں، جن میں مرد، خواتین اور بچے شامل ہوتے ہیں۔
اس گھر کے ایک کمرے میں، جہاں رنگین دیواریں ہیں، بیمار افراد بیٹھے یا لیٹے نظر آتے ہیں۔ یہاں آنے والوں میں سے کچھ شدید بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں جبکہ کچھ معمولی امراض کے شکار ہوتے ہیں، تاہم سب کا مقصد ایک ہی ہوتا ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح صحت یاب ہو جائیں۔
اس جگہ کے مرکز میں موجود ندا محمد قادری خود کو پیر اور معالج قرار دیتے ہیں۔ سفید پگڑی اور لمبی داڑھی کے ساتھ وہ اپنے مخصوص انداز میں لوگوں کا علاج کرتے ہیں۔ ان کا طریقہ کار یہ ہے کہ وہ پانی پینے کے بعد اسے مریضوں پر چھڑکتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ عمل خدا کے وسیلے سے بیماریوں کو ختم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
قادری کا کہنا ہے کہ ان کے اس طریقہ علاج سے سرطان اور تھیلیسیمیا جیسے سنگین امراض میں مبتلا افراد کو بھی فائدہ پہنچا ہے، جس کے باعث ان کے پاس آنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے گھر کے باہر اکثر لمبی قطاریں دیکھی جا سکتی ہیں، جہاں لوگ اپنی باری کے انتظار میں کھڑے ہوتے ہیں۔
تاہم طبی ماہرین اس طرح کے دعوؤں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سنگین بیماریوں کے علاج کے لیے مستند طبی سہولیات اور ڈاکٹرز سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق ایسے غیر سائنسی طریقے بعض اوقات مریضوں کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔
تھوکے گئے متبرک پانی سے کینسر کا علاج‘: طبی سہولیات کی قلت سے مایوس افغان
