واشنگٹن میں ٹرمپ انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع جنگ بندی کے بعد مؤثر طور پر ختم ہو چکا ہے، اس لیے مزید فوجی کارروائی کے لیے کانگریس کی منظوری درکار نہیں۔ امریکی حکام کے مطابق جنگ بندی کے بعد کسی قسم کی براہ راست لڑائی نہیں ہوئی، جس کے باعث اس تنازع کو ختم تصور کیا جا سکتا ہے۔
انتظامیہ نے اپنے مؤقف میں وار پاورز ریزولوشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ جنگ بندی کے بعد کوئی نئی فوجی کارروائی نہیں ہوئی، اس لیے کانگریس سے اضافی اجازت لینے کی ضرورت نہیں رہی۔ دو سینئر امریکی عہدیداروں نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ جنگ بندی کے بعد براہ راست محاذ آرائی نہ ہونے کے باعث تنازع کو ختم سمجھا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ وار پاورز ریزولوشن کے تحت کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے 60 دن کے اندر کانگریس کی منظوری ضروری ہوتی ہے، اور یہ مدت حال ہی میں ختم ہو چکی ہے۔ تاہم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں یہ شرط لاگو نہیں ہوتی۔
دوسری جانب امریکی سینیٹ نے چھٹی بار اس قرارداد کو مسترد کر دیا ہے جس میں ایران سے متعلق امریکی فوجی کارروائیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی سیاست میں اس معاملے پر اختلافات اب بھی موجود ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کا یہ مؤقف سیاسی اور قانونی بحث کو جنم دے سکتا ہے، کیونکہ کانگریس کی منظوری کے بغیر فوجی اقدامات ایک حساس معاملہ سمجھا جاتا ہے۔
ایران کے ساتھ جاری تنازع جنگ بندی کے بعد مؤثر طور پر ختم : ٹرمپ انتظامیہ
