پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد ملک بھر میں ٹرانسپورٹ کرایوں میں نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے، جس سے شہریوں، تاجروں اور کاروباری طبقے پر اضافی مالی بوجھ پڑ گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق مال بردار ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں 5 فیصد تک اضافہ کر دیا ہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ مالکان نے ازخود تقریباً 4 فیصد کرایوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ لاہور میں بھی مختلف شہروں کے لیے کرایوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جہاں انٹر سٹی روٹس پر 60 روپے سے لے کر 470 روپے تک کرایے بڑھا دیے گئے ہیں۔
ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث گاڑیوں کو چلانا مشکل ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق ایندھن مہنگا ہونے کے ساتھ ساتھ دیگر اخراجات جیسے ٹیکسز اور چالان بھی بڑھ گئے ہیں، جس کے باعث کرایوں میں اضافہ ناگزیر ہو گیا ہے۔
کراچی میں مال بردار ٹرانسپورٹرز نے بتایا کہ بڑھتی مہنگائی اور ڈیزل کی قیمتوں کے باعث کئی افراد اپنی گاڑیاں کھڑی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں کیونکہ موجودہ حالات میں کاروبار چلانا ممکن نہیں رہا۔
خیبر پختونخوا میں بھی ڈیزل مہنگا ہونے کے بعد کرایوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پشاور سے راولپنڈی کے لیے ٹرک کا کرایہ 25 ہزار روپے سے بڑھ کر 35 ہزار روپے ہو گیا ہے جبکہ لاہور کے لیے یہی کرایہ 45 ہزار سے بڑھ کر 65 ہزار روپے تک پہنچ گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافے کا براہ راست اثر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑتا ہے، جس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور عام شہریوں کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔
پیٹرول مہنگا، ملک بھر میں ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافہ
