امریکا نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں شپنگ قواعد پر عمل درآمد کیلئے قائم کیے گئے نئے ادارے پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق “پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی” کا قیام پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے بھتہ وصول کرنے کی نئی کوشش ہے۔
امریکی حکام نے الزام عائد کیا کہ یہ ادارہ عالمی بحری تجارت اور جہاز رانی پر غیر قانونی دباؤ ڈالنے کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے، اسی لیے اس پر اقتصادی پابندیاں نافذ کی جا رہی ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کے بیان میں کہا گیا کہ واشنگٹن خلیجی خطے میں آزاد اور محفوظ جہاز رانی کے اصولوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
دوسری جانب ایرانی حکام کی جانب سے فوری طور پر امریکی پابندیوں پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم حالیہ ہفتوں میں ایران بارہا کہہ چکا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت اور سکیورٹی کے معاملات اس کی قومی سلامتی سے جڑے ہوئے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق آبنائے ہرمز اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا اہم مرکز بن چکی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اسی اہم آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے، اس لیے وہاں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کے عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر فوری اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
حالیہ دنوں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خلیجی خطے میں عسکری اور سفارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
عالمی مبصرین کے مطابق آبنائے ہرمز سے متعلق تنازع آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔
امریکا نے آبنائے ہرمز اتھارٹی پر پابندیاں لگا دیں
