Baaghi TV

برطانیہ ، جنگ، تیل بحران ،قرضے،ایئر لائن کا بحران،چھٹیاں خطرے میں

لندن: عالمی منڈیوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں بڑھتے ہوئے تنازع کے بعد برطانیہ شدید معاشی دباؤ کی زد میں آ گیا ہے، جسے ماہرین نے “ٹرمپفلیشن شاک” قرار دیا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف حکومت کے اخراجاتی منصوبوں کو متاثر کیا ہے بلکہ ہزاروں شہریوں کی موسمِ گرما کی تعطیلات بھی خطرے میں ڈال دی ہیں۔

برطانیہ میں حکومتی قرض لینے کی لاگت گزشتہ 30 برس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ 30 سالہ گورنمنٹ بانڈز کی ییلڈ 1998 کے بعد سب سے زیادہ ہو گئی، جبکہ 10 سالہ بانڈز بھی عالمی مالیاتی بحران کے بعد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس اضافے کی بڑی وجہ عالمی غیر یقینی صورتحال اور توانائی کے بحران ہیں۔مارکیٹوں میں یہ خدشات بھی پائے جا رہے ہیں کہ اگر برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی جماعت بلدیاتی انتخابات میں کمزور کارکردگی دکھاتی ہے تو پارٹی کے اندر بائیں بازو کی قیادت ابھر سکتی ہے، جس سے معاشی پالیسیوں پر مزید غیر یقینی پیدا ہوگی۔امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں حملوں اور جوابی کارروائیوں کے بعد تیل کی عالمی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ ایران نے امریکی بحری جہازوں اور یو اے ای کے تیل ذخائر کو نشانہ بنانے کے بعد دوبارہ عسکری کارروائیوں کا آغاز کیا۔امریکی حکام، جن میں دفاعی سیکریٹری شامل ہیں، نے دعویٰ کیا ہے کہ اگرچہ سیزفائر مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، تاہم خطے میں صورتحال بدستور خطرناک ہے۔

ایوی ایشن انڈسٹری پر بھی شدید اثر پڑا ہے۔ رپورٹس کے مطابق مئی کے شیڈول میں دنیا بھر کی ایئرلائنز نے تقریباً 20 لاکھ سیٹیں کم کر دی ہیں۔ صرف دو ہفتوں میں 13 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ یا کم کی گئی ہیں۔کمپنیوں جیسے ریان ائیر کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ مزید پروازیں بھی منسوخ کی جا سکتی ہیں۔بین الاقوامی توانائی ڈیٹا کے مطابق جیٹ فیول کی قیمت دوبارہ بڑھ کر 181 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔ سرمایہ کاری ادارے نے خبردار کیا ہے کہ یورپ، خاص طور پر برطانیہ، جیٹ فیول کی شدید قلت کا شکار ہو سکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق برطانیہ یورپ کا سب سے بڑا نیٹ امپورٹر ہے،ملک کے پاس کوئی اسٹریٹجک ریزرو نہیں،صرف چار آئل ریفائنریز فعال ہیں،ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر سپلائی متاثر رہی تو “فیول راشننگ” تک نوبت آ سکتی ہے۔خلیجی فضائی کمپنیاں جیسے قطر، اتحاد اور امارات 28 فروری سے مشرق وسطیٰ کی فضائی حدود کی بندش اور ہوائی اڈے میں خلل کے ساتھ ساتھ ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے نئے اعداد و شمار کے مطابق، اوسط عالمی جیٹ ایندھن کی قیمت گزشتہ ہفتے ایک ماہ میں پہلی بار بڑھ کر $181 (£134) فی بیرل ہوگئی۔

ایئرلائن انڈسٹری کی تنظیموں کے مطابق اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو لاکھوں مسافروں کی موسمِ گرما کی چھٹیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔ کئی پروازیں پہلے ہی منسوخ یا دوبارہ شیڈول کی جا رہی ہیں، جبکہ کچھ کمپنیوں نے عملے اور روٹس میں کمی شروع کر دی ہے۔یورپی کمیشن نے ایئرلائنز کو تمام ممکنہ حالات کے لیے تیار رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ برطانوی حکومت نے بھی ایئرلائنز کو اجازت دی ہے کہ وہ مسافروں کو مختلف فلائٹس میں ایڈجسٹ کر کے فیول بچا سکیں، تاہم صارفین کے حقوق کے حوالے سے تنقید بھی سامنے آئی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال جلد مستحکم نہ ہوئی تو عالمی معیشت، خاص طور پر برطانیہ، توانائی بحران، مہنگائی اور قرضوں کی بڑھتی لاگت کے ایک نئے دور میں داخل ہو سکتا ہے، جس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں کی زندگی اور چھٹیوں کے منصوبوں پر پڑیں گے۔

More posts