امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں واقع ایک بند کی گئی وفاقی خواتین جیل میں سامنے آنے والے مبینہ جنسی استحصال کے بڑے اسکینڈل کے آخری مقدمے کا فیصلہ سنا دیا گیا ہے، جس کے بعد اس کیس میں قانونی کارروائیوں کا باضابطہ اختتام بھی ہو گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ امریکہ کی وفاقی جیل نظام کی تاریخ کا سب سے بڑا جنسی استحصال اسکینڈل سمجھا جاتا ہے۔
امریکی ڈسٹرکٹ جج نے جمعہ کے روز 32 سالہ سابق طبی عملے کے رکن جیفری ولسن کو 4.3 سال قید کی سزا سنائی۔ جیفری ولسن نے وفاقی خواتین جیل میں قید ایک خاتون قیدی کے ساتھ جنسی زیادتی کا اعتراف کیا تھا۔یہ جیل اوکلینڈ کے مشرق میں واقع تھی اور اسے طویل عرصے تک قیدیوں کی جانب سے غیر رسمی طور پر (ریپ کلب) کے نام سے جانا جاتا رہا، جہاں عملے کی جانب سے مبینہ بدعنوانی اور جنسی استحصال کے متعدد الزامات سامنے آتے رہے۔ بالآخر 2024 میں یہ جیل بند کر دی گئی۔استغاثہ کے مطابق جیفری ولسن نے 2021 اور 2022 کے دوران ایک قیدی، جسے عدالتی دستاویزات میں “C.S.” کے نام سے شناخت کیا گیا ہے، کے ساتھ متعدد بار جنسی زیادتی کی۔ وہ اس وقت جیل میں بطور میڈیکل ٹیکنیشن کام کر رہا تھا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق ولسن نے اپنی حیثیت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے قیدی سے تعلق قائم کیا، اسے خطوط، ذاتی گفتگو اور مختلف مراعات کے ذریعے متاثر کیا۔ بعد ازاں یہ تعلق مبینہ طور پر جنسی استحصال تک جا پہنچا۔استغاثہ نے یہ بھی بتایا کہ ملزم نے قیدی کو ایک کم نگرانی والے علاقے میں منتقل ہونے کی ترغیب دی اور اسے یہ کہا کہ وہاں “زیادہ آزادی” اور “مزید ملاقاتیں” ممکن ہوں گی۔ اس کے علاوہ اس نے مبینہ طور پر قیدی کو ممنوعہ موبائل فون، ویپ ڈیوائس، لپ اسٹک اور پری پیڈ کارڈ بھی فراہم کیے۔
سماعت کے دوران جج نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا “یہ خواتین پہلے ہی ذہنی اور جذباتی طور پر کمزور تھیں، اور آپ جیسے افراد نے اس کمزوری کا فائدہ اٹھایا، جو نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ غیر قانونی ہے۔”استغاثہ کے وکیل اینڈریو پالسن نے مؤقف اختیار کیا کہ ولسن نے قیدی کو “آہستہ آہستہ ذہنی طور پر قابو میں لیا” اور یہ ایک واضح طور پر شکاری رویہ تھا۔جیفری ولسن نے مختصر بیان میں اپنے عمل پر معافی مانگی، تاہم یہ بھی کہا کہ اس تعلق کو “رضامندی” سمجھا گیا تھا، جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔ اس نے اپنے ذاتی مسائل، ازدواجی مشکلات اور ذہنی دباؤ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ وہ اپنے کیے پر “ہر روز پشیمان رہے گا”۔اس کے وکیل نے عدالت میں دلیل دی کہ ملزم نے ماضی میں ایمرجنسی میڈیکل سروسز میں کام کیا تھا، جہاں اسے ذہنی دباؤ اور تکلیف دہ تجربات کا سامنا رہا، جس کے اثرات اس کے رویے پر پڑے۔
یہ مقدمہ اس بڑے اسکینڈل کا آخری کیس تھا جس میں جیل کے تقریباً 10 سابق ملازمین پر قیدیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات ثابت ہوئے یا وہ سزا یافتہ قرار پائے۔جیل کے سابق وارڈن کو بھی 2023 میں تقریباً 6 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ مجموعی طور پر 10 میں سے 9 افراد کو سزا ہوئی، جبکہ ایک ملزم ثبوت نہ ہونے یا دوبارہ ٹرائلز میں ناکامی کے بعد بری ہو گیا۔
استغاثہ نے اپنے بیان میں کہا کہ جیل میں برسوں تک ایک ایسا ماحول موجود رہا جہاں اہلکار اپنی طاقت کا غلط استعمال کرتے رہے۔ان کے مطابق قیدیوں کی حفاظت پر مامور اہلکار خود ان کے استحصال میں ملوث رہے،نظامی نگرانی ناکافی تھی،اور اندرونی احتساب کا مؤثر نظام موجود نہیں تھا،اسی وجہ سے وفاقی جیل بیورو نے بالآخر اپریل 2024 میں اس ادارے کو بند کر دیا۔
اس اسکینڈل کے بعد سینکڑوں سابق قیدی خواتین نے جنسی استحصال کے الزامات عائد کیے ہیں۔ تقریباً 300 سے زائد خواتین نے وفاقی حکومت کے خلاف مختلف سول مقدمات دائر کیے،ان دعوؤں کے نتیجے میں پہلے ہی 116 ملین ڈالر کے ایک بڑے تصفیے کی منظوری دی جا چکی ہے، تاہم متاثرین کا کہنا ہے کہ اصل انصاف ابھی باقی ہے۔
