Baaghi TV

بھارت میں ایک ہی خاندان کے 3 افراد مختلف پارٹیوں سے رکن اسمبلی منتخب

بھارت کی سیاست میں جہاں سیاسی خاندانوں کی حکمرانی ایک عام روایت سمجھی جاتی ہے، وہیں تمل ناڈو اور پڈوچیری اسمبلی انتخابات 2026 میں ایک غیر معمولی اور حیران کن صورتحال نے سب کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ ایک ہی خاندان کے تین افراد نے مختلف سیاسی جماعتوں کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور تینوں کامیاب ہو کر رکن اسمبلی بن گئے۔

یہ منفرد سیاسی خاندان لاٹری بزنس سے وابستہ معروف کاروباری شخصیت سینٹیاگو مارٹن کا ہے، جن کے خاندان کے افراد نے مختلف پارٹیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے الگ الگ حلقوں سے کامیابی حاصل کی۔سینٹیاگو مارٹن کی اہلیہ لیما روز مارٹن نے تمل ناڈو کے حلقے لال گڑی سے آل انڈیا انا دراوڑ منیترا کزگم (AIADMK) کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا،انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار کوپا کرشنن کو تقریباً 2,700 ووٹوں سے شکست دی۔ یہ نشست طویل عرصے سے دراوڑ منیترا کزگم (DMK) کا مضبوط گڑھ سمجھی جاتی تھی، تاہم دو دہائیوں بعد یہاں AIADMK نے دوبارہ کامیابی حاصل کر لی۔ڈی ایم کے کے امیدوار ٹی پریولال بھی مقابلے میں خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکے۔ لیما روز مارٹن پہلے ایک اور سیاسی جماعت سے وابستہ تھیں لیکن انتخابات سے قبل وہ AIADMK میں شامل ہوئیں۔ کامیابی کے بعد انہیں پارٹی کی خواتین ونگ کی جوائنٹ سیکرٹری بھی مقرر کر دیا گیا ہے۔

خاندان کے دوسرے کامیاب امیدوار آدھو ارجن ریڈی ہیں، جو سینٹیاگو مارٹن کی بیٹی ڈیزی مارٹن کے شوہر ہیں۔انہوں نے تمل ناڈو کے حلقے ولی وکم سے تملگا ویتری کژگم (TVK) کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور ڈی ایم کے کے سینئر رہنما کارتک موہن کو 17,302 ووٹوں کے واضح فرق سے شکست دی۔یہ نشست پچھلے دو انتخابات سے ڈی ایم کے کے پاس تھی، تاہم اس بار اپوزیشن نے اسے اپنے نام کر لیا۔آدھو ارجن ریڈی اداکار اور سیاست دان وجئے کی پارٹی TVK کے اہم رہنماؤں میں شمار کیے جاتے ہیں اور انہوں نے پارٹی کی انتخابی مہم میں مرکزی کردار ادا کیا۔

خاندان کے تیسرے کامیاب امیدوار جوس چارلس مارٹن ہیں، جو سینٹیاگو مارٹن کے بیٹے ہیں۔انہوں نے پڈوچیری اسمبلی کے حلقے کامراج نگر سے اپنی نئی سیاسی جماعت لتچیا جننایک کچی (LJK) کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور 10 ہزار سے زائد ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی۔انہوں نے کانگریس کے پی کے دیوداس اور TVK کے امیدوار کو شکست دی۔جوس چارلس مارٹن پہلے بھارتیہ جنتا پارٹی سے وابستہ رہے، تاہم سیٹوں کی تقسیم پر اختلاف کے بعد انہوں نے پارٹی چھوڑ دی۔ بعد ازاں فروری 2026 میں اپنی نئی سیاسی جماعت تشکیل دی۔انہوں نے ایک انٹرویو میں وزیر اعظم نریندر مودی کے وژن اور “میک ان انڈیا” پروگرام کی تعریف بھی کی۔

سینٹیاگو مارٹن بھارت میں لاٹری بزنس کے بڑے نام کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے 1980 اور 1990 کی دہائی میں لاٹری کاروبار سے آغاز کیا اور اپنی کمپنی Future Gaming and Hotel Services کو ملک کی بڑی لاٹری کمپنیوں میں شامل کر لیا۔مارچ 2024 کے لوک سبھا انتخابات سے قبل الیکٹورل بانڈز کے معاملے کے بعد ان کا نام سیاسی فنڈنگ میں سب سے بڑے عطیہ دہندگان میں سامنے آیا۔ ان کی کمپنیوں نے مختلف سیاسی جماعتوں کو چندہ دیا۔تاہم بعد میں ان پر منی لانڈرنگ اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات بھی لگے، جن کی تحقیقات انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے کیں۔ کئی بار ان کی کمپنیوں پر چھاپے مارے گئے اور اربوں روپے کے اثاثے ضبط کیے گئے۔فی الحال انہیں سپریم کورٹ سے عبوری ریلیف حاصل ہے، جبکہ ان کے لاٹری کاروبار سے متعلق مختلف ریاستوں میں قانونی سوالات بھی اٹھائے جاتے رہے ہیں۔

More posts