Baaghi TV

امریکہ امن چاہتا ہے، لیکن ایران وہ راستہ اختیار نہیں کر رہا،امریکی وزیرخارجہ

واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ایک پریس بریفنگ اس وقت غیر معمولی اور دلچسپ رخ اختیار کر گئی جب ان سے ان کے "DJ نام” کے بارے میں سوال کیا گیا، جس کے جواب میں انہوں نے ہنستے ہوئے کہا”You’re not ready for my DJ name” (آپ میرے DJ نام کے لیے تیار نہیں ہیں)۔

یہ سوال اس وقت کیا گیا جب روبیو کو ایک فیملی ویڈنگ میں DJ ڈیک کے پیچھے دیکھا گیا تھا، جس پر صحافیوں نے ان سے ان کا DJ نام پوچھ لیا۔

مزاحیہ انداز کے بعد مارکو روبیو نے گفتگو کا رخ ایران کی صورتحال کی طرف موڑ دیا اور کہا کہ امریکہ امن چاہتا ہے،
لیکن ایران وہ راستہ اختیار نہیں کر رہا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور واشنگٹن ایران کے ساتھ معاہدہ چاہتے ہیں، تاہم ایران کی موجودہ پالیسی اسے معاشی تباہی کی طرف لے جا رہی ہے۔روبیو نے سخت لہجے میں ایک مشہور ریپر آئس کیوب کے جملے کو دہراتے ہوئے کہا،انہیں خود کو درست کر لینا چاہیے اس سے پہلے کہ وہ خود کو تباہ کر بیٹھیں،یہ جملہ انہوں نے ایران کی موجودہ پالیسیوں کے تناظر میں استعمال کیا۔

پریس کانفرنس میں روبیو نے چین پر زور دیا کہ وہ ایران کو خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے سے روکے۔ انہوں نے کہا کہ چین کو ایران سے واضح طور پر کہنا چاہیے کہ اس کی سرگرمیاں اسے عالمی سطح پر تنہائی کی طرف لے جا رہی ہیں۔ان کا کہنا تھا “آپ کو بحری جہازوں پر حملے نہیں کرنے چاہئیں، نہ ہی عالمی معیشت کو یرغمال بنانا چاہیے۔”روبیو نے امریکی منصوبے “پروجیکٹ فریڈم” کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں تقریباً 23,000 افراد مختلف ممالک سے متاثر ہوئے ہیں۔انہوں نے اسے “دفاعی آپریشن” قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ امریکہ صرف اس وقت ردعمل دے گا جب اس پر حملہ کیا جائے گا۔روبیو نے دعویٰ کیا کہ امریکی پابندیوں کے باعث ایران کی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے۔ ان کے مطابق مہنگائی 70 فیصد تک پہنچ چکی ہے،ایرانی کرنسی شدید گراوٹ کا شکار ہے،اور ملک کی زیادہ تر تجارت متاثر ہوئی ہے،انہوں نے کہا کہ یہ سب ایران کی “جارحانہ پالیسیوں” کا نتیجہ ہے۔

لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی پر بات کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ اصل مسئلہ لبنان یا اسرائیل نہیں بلکہ حزب اللہ ہے، جو لبنان کی سرزمین سے سرگرم ہے اور خطے میں عدم استحکام کا سبب بن رہی ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں ایک پائیدار جنگ بندی ممکن ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران روبیو نے صحافیوں کے شور شرابے پر مزاحیہ انداز میں کہا “This is chaos guys” (یہ تو مکمل افراتفری ہے)،جس پر ایک صحافی نے جواب دیا: “Welcome to the White House”۔

More posts