Baaghi TV

بیٹیاں بڑے ہو کر بھی عوامی مقامات پر خود کو غیر محفوظ محسوس کریں گی،والدین کو خدشہ

برطانیہ میں خواتین اور بچیوں کی حفاظت اور صنفی مساوات سے متعلق ایک تازہ سروے نے تشویشناک صورتحال کو سامنے لایا ہے، جس کے مطابق بڑی تعداد میں والدین کو خدشہ ہے کہ ان کی بیٹیاں مستقبل میں بھی عوامی مقامات پر خود کو محفوظ محسوس نہیں کر سکیں گی۔

یہ سروے فلاحی تنظیم پلان انٹرنیشنل یوکے کی جانب سے کیا گیا، جس میں سامنے آیا کہ تقریباً 80 فیصد والدین اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ ان کی بیٹیاں بڑی ہو کر عوامی مقامات پر عدم تحفظ کا شکار ہوں گی۔ مزید یہ کہ 40 فیصد والدین کا ماننا ہے کہ یہ احساسِ عدم تحفظ ان کی اپنی نسل کے مقابلے میں کم عمری میں ہی شروع ہو جائے گا۔سروے میں شامل خواتین کے تجربات بھی صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں،تقریباً 63 فیصد خواتین نے کہا کہ وہ کبھی نہ کبھی عوامی مقامات پر غیر محفوظ محسوس کر چکی ہیں،58 فیصد خواتین نے غیر مطلوب جسمانی یا جنسی ہراسانی کا سامنا کیا ہے،اور 41 فیصد کا خیال ہے کہ صنفی مساوات میں بہتری کے بجائے تنزلی ہو رہی ہے

یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی خواتین کے لیے عوامی جگہیں مکمل طور پر محفوظ نہیں سمجھی جا رہیں۔سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ والدین کی ایک بڑی تعداد اپنے بچوں سے اہم سماجی موضوعات پر بات نہیں کرتی،42 فیصد والدین نے کبھی بھی اپنے بچوں سے صنفی مساوات پر بات نہیں کی،36 فیصد نے کبھی رضامندی کے موضوع پر گفتگو نہیں کی،جبکہ 27 فیصد والدین نے اعتراف کیا کہ وہ آن لائن خطرناک مواد سے بچوں کی حفاظت کے لیے خود کو تیار یا اہل محسوس نہیں کرتے،ماہرین کے مطابق یہ خاموشی مستقبل میں بچوں کی آگاہی اور تحفظ کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

پلان انٹرنیشنل یوکے نے ان نتائج کی بنیاد پر نئی مہم دی فائن پرنٹ کا آغاز کیا ہے۔ اس مہم کا مقصد یہ اجاگر کرنا ہے کہ لڑکیاں جن حالات میں پروان چڑھتی ہیں وہ اب بھی غیر مساوی اور غیر محفوظ ہیں۔تنظیم کے مطابق یہ نتائج ان دعوؤں کی تردید کرتے ہیں کہ صنفی مساوات کا سفر مکمل ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حقیقت اس کے برعکس ہے، کیونکہ بہت سی خواتین اب بھی روزمرہ زندگی میں عدم تحفظ اور ہراسانی کا سامنا کر رہی ہیں۔
حکومت کا ردعمل اور نئی حکمتِ عملی

یہ سروے ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانوی حکومت نے دسمبر میں خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد کو آئندہ دس سال میں نصف کرنے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی پیش کی تھی۔اس منصوبے کے تحت اسکولوں میں اساتذہ کو خصوصی تربیت دی جائے گی تاکہ وہ لڑکوں میں ابھرنے والے منفی اور انتہاپسند رویوں کی ابتدائی علامات کو پہچان سکیں۔برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے اس موقع پر کہا تھا کہ خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد کا خاتمہ “آئندہ نسل کے لیے ہماری ذمہ داری” ہے، اور معاشرے میں پھیلنے والے زہریلے خیالات کو ابتدائی سطح پر روکنا ضروری ہے۔

More posts