Baaghi TV

خاتون ڈرائیور کی جانب سے گھر میں‌”برہنہ”لیٹے شخص کی ویڈیو بنانے پر فردجرم عائد

امریکی ریاست نیویارک میں ایک 23 سالہ خاتون ڈرائیور کے خلاف ایک گاہک کی نازیبا حالت میں خفیہ ویڈیو بنانے اور اسے ٹک ٹاک پر وائرل کرنے کے الزام میں باقاعدہ فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔ اس واقعے نے سوشل میڈیا پر شدید بحث کو جنم دیا تھا۔

ملزمہ اولیویا ہینڈرسن، جو ڈور ڈیش کے لیے ڈیلیوری ڈرائیور کے طور پر کام کرتی تھی، جمعہ کے روز عدالت میں پیش ہوئیں، جہاں ایک گرینڈ جیوری نے ان کے خلاف الزامات کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ عدالت میں ان کی جانب سے وکیل نے عدم جرم کی درخواست دائر کی۔عدالتی ریکارڈ اور پراسیکیوشن کے مطابق یہ واقعہ 12 اکتوبر 2025 کو پیش آیا، جب ہینڈرسن ایک ڈیلیوری کے لیے ایک گھر پر پہنچی۔ الزام ہے کہ انہوں نے دروازے کے باہر سے ہی ایک شخص کو ویڈیو میں ریکارڈ کیا جو صوفے پر بغیر پتلون کے بے ہوش حالت میں موجود تھا۔ یہ ویڈیو بعد ازاں ٹک ٹاک پر پوسٹ کی گئی، جہاں یہ تیزی سے وائرل ہو کر تقریباً 3 کروڑ (30 ملین) ویوز تک پہنچ گئی، تاہم بعد میں اسے ہٹا دیا گیا۔پراسیکیوٹرز کے مطابق، ویڈیو میں دکھائے گئے شخص کی ذاتی اور نجی حالت کو اس کی اجازت کے بغیر ریکارڈ کیا گیا، جسے قانون کے تحت “پرائیویسی کی خلاف ورزی” اور “نازیبا نگرانی” قرار دیا جا رہا ہے۔ فردِ جرم میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ شخص کی ایسی حالت میں تصویر کشی کی گئی جب اسے “نجی مقام پر مکمل رازداری کا حق حاصل تھا”۔

دوسری جانب اولیویا ہینڈرسن نے ابتدا میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ ایک مبینہ ہراسانی کے واقعے کی رپورٹ کر رہی تھیں۔ ان کے مطابق، وہ جب آرڈر ڈیلیور کرنے پہنچیں تو گھر کا دروازہ کھلا تھا اور اندر موجود شخص صوفے پر غیر مناسب حالت میں نظر آیا، جس پر انہوں نے اسے جنسی ہراسانی سمجھا۔تاہم تفتیشی حکام نے بعد میں اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ شخص نشے کی حالت میں بے ہوش تھا اور اس نے نہ تو ڈرائیور سے کوئی رابطہ کیا اور نہ ہی کوئی ہراسانی کی۔

اولیویا ہینڈرسن کو ابتدائی سماعت کے بعد رہا کر دیا گیا ہے اور وہ آئندہ سماعت کے لیے جون میں دوبارہ عدالت میں پیش ہوں گی۔ ان کی دسمبر 2025 کی پہلی پیشی کے بعد بھی یہ کیس سوشل میڈیا پر زیر بحث رہا تھا۔جمعہ کے روز عدالت میں ہونے والی کارروائی کے دوران جج نے میڈیا کیمرے اندر لے جانے کی اجازت نہیں دی۔ عدالت کے باہر صحافیوں نے جب ہینڈرسن سے موقف لینے کی کوشش کی تو انہوں نے کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

More posts