اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کے زیر اہتمام بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے شرکاء نے بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور سیاسی مفاہمت کا راستہ اختیار کرنے پر زور دیا۔
کانفرنس میں منظور کی گئی تجاویز میں کہا گیا کہ بلوچستان کے دیرینہ مسائل کا پائیدار حل صرف بامعنی بات چیت، آئینی عمل اور سیاسی اتفاق رائے کے ذریعے ممکن ہے۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان مذاکرات کا آغاز کیا جائے تاکہ صوبے میں امن، استحکام اور اعتماد کی فضا بحال ہو سکے۔
شرکاء نے لاپتا افراد کے مسئلے کو بلوچستان کا ایک اہم انسانی اور سماجی مسئلہ قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے مؤثر اور فوری اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کے حل سے عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
آل پارٹیز کانفرنس میں شفاف، آزاد اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد پر بھی زور دیا گیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ عوام کو اپنی حقیقی نمائندگی کا حق ملنا چاہیے تاکہ منتخب قیادت صوبے کے عوام کی خواہشات کے مطابق فیصلے کر سکے اور جمہوری عمل مزید مضبوط ہو۔
شرکاء نے بلوچستان کے قدرتی وسائل میں مقامی آبادی کے مؤثر اور منصفانہ حق کو یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد میں مقامی لوگوں کو ترجیح دی جائے تاکہ بلوچستان میں ترقی، روزگار اور خوشحالی کے نئے مواقع پیدا ہوں۔
کانفرنس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ بلوچستان میں امن و امان کی بہتری، عوامی اعتماد کی بحالی اور سیاسی استحکام کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ مقررین نے کہا کہ اختلافات کے حل کے لیے سیاسی مکالمہ ہی سب سے مؤثر اور دیرپا راستہ ہے۔
بلوچستان پر آل پارٹیز کانفرنس، سیاسی جماعتوں کا مذاکرات اور لاپتا افراد کی بازیابی کا مطالبہ
