وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی عوامی حقوق کے نام پر تشدد کو ہوا دینے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ صوبائی حکومت نوجوانوں کو ترقی، تعلیم اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیراعلیٰ نے مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر گفتگو کرتے ہوئے بلوچستان سے متعلق گردش کرنے والے گمراہ کن بیانیے پر اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت حقائق اور شواہد کی بنیاد پر عوام کو درست معلومات فراہم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے یوتھ انگیجمنٹ پلان کے تحت بلوچستان بھر میں نوجوانوں کے لیے مختلف روزگار اور ہنر مندی کے منصوبے شروع کیے ہیں، تاکہ انہیں مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جا سکے اور معاشی مواقع میسر آئیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی عوامی حقوق کی آڑ میں نوجوانوں کو تشدد پر اکسانے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم حکومت ایسے عناصر کے عزائم کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ ان کے مطابق گوادر سمیت بلوچستان کے تمام اضلاع کے نوجوانوں کو مساوی ترقیاتی مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ تعلیم کے فروغ کے لیے ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ اور اسکالرشپ پروگراموں کے لیے خصوصی فنڈز مختص کیے گئے ہیں، تاکہ باصلاحیت طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے بہتر مواقع حاصل ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نوجوانوں کی فلاح، تعلیم، روزگار اور ہنر مندی کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے حکومتی اقدامات جاری رہیں گے اور نوجوانوں کو ملکی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی عوامی حقوق کی آڑ میں تشدد پر اکسا رہی ہے، سرفراز بگٹی
