Baaghi TV

ڈی آئی جی آپریشن لاہور پر تنقید کیوں ؟تحریر:ملک سلمان

malik salman

بزدار حکومت اور بعد ازاں نگران دور حکومت میں پولیس نے رشوت بازاری اور اختیارات کا جس بے دردی سے استعمال کیا پنجاب پولیس گالی بن چکی تھی خاص طور پر لاہور میں کرائم بلند ترین سطح پر تھا۔

وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے سابق وزراء اعلیٰ کے روائتی انداز ”وردی بدل دو“ کو اپنانے کی بجائے پولیس کی کارگردگی، عوام کے تحفظ اور امن و امان کے قیام کے حوالے سے باقاعدگی سے بیسوں اجلاس کی صدارت کی اور ہر دفعہ پولیس میں اصلاحات، کارگردگی میں بہتری، عوامی تحفظ اور کرپٹ پولیس افسران و اہلکاروں کے احتساب پر زور دیا۔ کیپٹیل سٹی لاہور کو کرائم اینڈ کریمنل فری کرنے کیلئے انتہائی اچھی شہرت کے حامل فیصل کامران کا انتخاب کیا گیا۔ 22اپریل 2024 کو ڈی آئی جی اپریشن لاہور کا چارج سنبھالنے والے فیصل کامران نے دن رات انتھک محنت سے محض ایک سال میں 29اپریل 2025 کو لاہور کو دنیا کے محفوظ ترین شہروں میں لاکھڑا کیا۔ لاہور کو دنیا کے محفوظ ترین شہروں میں تمام ہمسایہ ممالک سمیت نیویارک، لندن، واشنگٹن، میکسیکو اور پیرس جیسے بڑے شہروں سے سبقت مل گئی۔

27ماہ کی تعیناتی میں سینکڑوں اہم ایونٹس اور وی وی آئی پی شخصیات کی سکیورٹی سے لیکر عوام کی جان و ملک کے تحفظ تک تمام امور باخوبی سرانجام دینے والے ڈی آئی جی اپریشن لاہور فیصل کامران کی دن رات انتھک محنت کی بدولت 24/7 آپ کبھی بھی کہیں بھی بلاخوف و خطر سفر کرسکتے ہیں۔ لاہور کا امن و امان اور پولیس پر عوامی اعتماد بحال کرنے والے ڈی آئی جی اپریشن فیصل کامران نے ٹاؤٹ اور سفارشی کلچر کو ختم کرتے ہوئے ڈی آئی جی آفس تک عوامی رسائی کو اوپن کردیا۔ کسی بھی شہری کو ڈی آئی جی اپریشن سے ملنے کیلئے کسی سیاسی اور صحافتی سفارش کی ضرورت نہیں رہی۔

سابقہ ادوار میں کرپٹ افسران نے اپنی کمزویوں سے صحافیوں کو اس قدر مضبوط کردیا تھا کہ صحافی کرپٹ سرکاری ملازمین کے سامنے ”باس“ بن کر رہنے لگے۔ ایس ایچ او اور ڈی ایس پی کی ٹرانسفر پوسٹنگ بھی صحافی اور منشیات فروش کرنے لگے تھے۔ ماضی کی پریکٹس رہی ہے کہ کرائم رپورٹر اور نام نہاد سنئیر صحافی اپنا "کماؤ پتر” پیش کرتے تھے کہ اسے ایس ایچ او لگا دیں۔ جس افسر سے زیادہ بے تکلفی ہوتی تھی اسے کہتے تھے کہ ایک موقع اسے دیں ہم دونوں کو خوش کردے گا۔ فیصل کامران نے سیاسی اور صحافتی سفارش پر ٹرانسفر پوسٹنگ کے خاتمے کا مشن امپاسبل پاسیبل کر دکھایا۔پولیس کے نام پر قائم ہونے والی صحافتی دکانیں اور کمائی کے اڈے بند ہونے کے قریب ہوچکے ہیں جبکہ منشیات فروشوں سے لیکر بھتہ خوروں اور قبضہ مافیا کیلئے بھی لاہور میں کوئی جگہ نہیں رہی ایسے میں ہر وہ فرد جس کی کمائی غیرقانونی طریقے سے منسلک تھی ان کیلئے فیصل کامران کھٹکنے لگا ہے اس لیے تمام شرپسند عناصر کسی نہ کسی کو "فیس” بنا کر آئے دن ڈرامہ رچانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

گزشتہ روز بھی بجائے اس کے کہ آپ انتہائی اہم واقعہ کے حقائق جاننے کیلئے سوال کرتے "سنگل پوائنٹ” ایجنڈے کے تحت ڈی آئی جی اپریشن پر بلاجواز تنقید اور ذاتی اٹیک کرتے رہے۔ اس ساری صورتحال میں اہلیان لاہور نے سوشل میڈیا پر فیصل کامران کی عوام دوست اور کرائم فری پولیسنگ کو بھرپور سپورٹ کیا اور صحافت گردی کی شدید مذمت کی۔ڈی آئی جی آپریشن 2کروڑ شہریوں کی حفاظت کی بجائے تم سے گپ شپ لگائے اور کھانوں پر بلائے یہ کیسی فضول خواہشات اور شکوے ہیں؟

فیصل کامران27ماہ کی طویل تعیناتی میں کسی سے نہ تو ایک کپ چائے کا رودار ہے اور نہ ہی اتنے لمبے عرصے میں 2کروڑ کی آبادی کے شہر میں کوئی ایک شہری بھی ان پر ایک روپے کی کرپشن یا خلاف میرٹ فیصلہ claim کرسکا۔ فیصل کامران کی 793دن کی تعیناتی میں آپ کے پاس اگر تنقید کرنے کیلئے صرف یہی باقی ہے کہ وہ آپ کی بجائے عوام کی ڈائریکٹ کیوں سنتا ہے تو پھر تم عوامی عدالت میں اپنا کیس ہار چکے ہو۔ سیاسی اور صحافتی سفارش کے بغیر 24/7عوام کی ڈسپوزل پر رہنے والا فیصل کامران اہلیان لاہور کا ہیرو اور مسیحا بن چکا ہے۔ لاہور کو کرپشن فری کرنے کیلئے تمام سفارشوں کو رد کرکے میرٹ پر ایس ایچ اوز کی تعیناتی سے لیکر جرائم پیشہ افراد کے خلاف بلا تفریق کاروائیوں کی بدولت لاہور کے کرائم ریٹ میں واضح کمی ہوئی ہے۔

گذشتہ روز ڈی آئی جی اپریشن کی اہم ترین پریس کانفرنس کو سبوتاز کرکے ان پر ذاتی حملے، بے بنیاد تنقید، الزامات اور بدتمیزی کی ویڈیوز بنانا اور انکو وائرل کرنا بلا شک و شبہ سائبر کرائم ہے اس پر اگر پولیس سائبر کرائم کی کاروائی کرتی ہے تو صحافت خطرے میں آجائے گی؟لاہور اور پنجاب کو کرائم فری اور محفوظ بنانے کیلئے نیک نام افسران کو فری ہینڈ، حکومتی سپورٹ اور اعتماد دینا ناگزیر ہے۔ پولیس کو سرکاری، سیاسی اور صحافتی پریشر جبکہ اشرافیہ اور مافیا کے روائتی جارہانہ دباؤ سے آزاد کرکے ہی عوام کو فوری انصاف فراہم کیا سکتا ہے۔

ملک محمد سلمان
maliksalman2008@gmail.com

More posts