پانچ دریاؤں کے جھرمٹ میں چار موسموں کے سنگ سجا میرا پیارا پاکستان، دنیا کے نقشے میں چار چاند لگائے ہوئے موجود ہے۔ جیسے سہیلیوں، سکھوں کے جھڑمٹ میں سجی نئی نویلی کوئی دلہن ہو جو اپنے سولہ سنگھاروں کے ساتھ سامنے والے کی نظروں کو حیران کر دے، ایسا ہے میرا پاکستان۔ دنیا کے نقشے میں خوش قسمت ترین ملک جہاں پانچ دریاؤں کے سنگم میں چاروں موسموں کا سکون بستا ہے۔ وطن عزیز عطائے قدرت ہے، جس کی ہم نے قدر نہ کی۔ یہ ہمارے لیے ڈرنے کا مقام ہے کہ جب قدرت کی دی گئی نعمتوں کی قدر نہ کی جائے تو قدرت نعمتوں کو چھین لینے پر بھی قادر ہوتی ہے۔ آج ہم اس مقام پر کھڑے ہیں جہاں ہم قدرت کے اس انعام کی قدر کھو چکے ہیں۔ چاروں موسم ہم سے روٹھ چکے ہیں سردیاں تو بس چند دنوں، چند ہفتوں کی مہمان بن کر آتی ہیں اور پلک جھپکتے ہی ہمیں اداس کر کے چلی جاتی ہیں۔ موسم بہار تو جیسے ہم سے روٹھ ہی گیا ہو۔ موسموں کا روٹھ جانا بھی کہیں قدرت کی ناراضی تو نہیں؟ یہ درخت، یہ پیڑ پودے، یہ سب دھرتی کا حسن ہی تو ہیں۔ ہم نے ان کو جب سے کاٹنا شروع کیا ہے تب سے ہم نے آفات کو اپنے گھر کا راستہ دکھا دیا ہے۔ اب تو سال کے بارہ مہینوں میں سے زیادہ تر حصہ تپتی ہوئی دھوپ، شدید ہیٹ ویوز اور جھلسا دینے والی گرمی کی نظر ہو جاتا ہے۔ موسموں کا بدلتا ہوا یہ گرم مزاج کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ یہ آگ برساتا آسمان، یہ تپتی ہوئی زمین، یہ لو کے تھپیڑے کوئی معمولی بات نہیں بلکہ یہ قدرت کی طرف سے وہ خاموش دستک ہے جو ہمارے لیے ایک وارننگ ہے۔ جسے ہم نے اگر نہ سمجھا تو آنے والا وقت ہمارے لیے بڑے تباہ کن ماحولیاتی بحران کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔ تیزی سے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز، غیر متوقع بارشیں، شہروں میں سیلابی صورتحال اور ہڈیوں کو پگھلا دینے والی شدید گرمی کی لہریں یہ سب کوئی کتابی باتیں نہیں بلکہ وطن عزیز کی موجودہ موسمی صورتحال کا نقشہ ہے جو کہ بہت تلخ مگر حقیقت ہے۔ عالمی سطح پر کاربن گیسوں کے اخراج میں وطن عزیز ایک فیصد سے بھی کم ہے لیکن موسمیاتی تبدیلیوں کے نقصانات کا سامنا کرنے والے ممالک میں وطن عزیز صف اول میں کھڑا ہے۔ ماحولیات کا یہ بحران اب صرف کتابی موضوع نہیں رہا بلکہ ہمارے موجودہ حالات اور آنے والی نسلوں کے مستقبل پر براہ راست حملہ آور ہو چکا ہے۔ ہم تو اپنی زندگی گزار چکے ہیں مگر آنے والی نسلوں کے لیے ہم نے ڈھیروں مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔ یہ واقعی تلخ حقیقت ہے کہ وطن عزیز ایک ایسے ماحولیاتی بحران کا شکار ہے جہاں موسموں کا کوئی قابل بھروسہ شیڈیول نہیں ہے۔ شمالی علاقہ جات کے گلیشیئرز جو ہمارے پانی کا سب سے بڑا ذخیرہ ہیں وہ تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ جس کے نتیجے میں کبھی تو ندی نالوں میں اتنا پانی آ جاتا ہے کہ سیلابی ریلوں کو روکنا ناممکن نظر آتا ہے اور یہ بے رحم سیلابی ریلے دیہاتوں کے دیہات اپنے ساتھ بہا کر لے جاتے ہیں۔ پانی بی بھلا کبھی کسی پر رحم کھاتا ہے۔ یہ نا صرف گھروں کو بہا کر اپنے ساتھ لے جاتا ہے بلکہ وہاں موجود مکینوں کی امنگوں، خوشیوں، خوابوں اور زندگی کے رنگوں کو بھی ملیامیٹ کر دیتا ہے۔ موسموں کی تبدیلیوں کی وجہ سے ہماری زراعت کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ وطن عزیز جو دنیا کے نقشے پر ایک ذرعی ملک کی حیثیت سے اپنی پہچان رکھتا ہے۔ مستقبل قریب میں شاید موسموں کی بے رحمی کا شکار ہو جائے۔ ابھی تو ہم نے اپنے ہم وطنو کو رہائشی اور چند سہولیات زندگی کے بحران کا شکار ہوتے دیکھا ہے لیکن اگر ہم نے احتیاط نہ کی تو موسموں کا تغیر مستقبل میں ہمارے لیے خوراک کا ایک نیا بحران کھڑا کر سکتا ہے۔ لمحہ فکریہ تو یہ ہے کہ اس تباہی کا قصوروار کون ہے؟ کیا یہ قدرتی آفات ہیں؟ یا یہ سب ہماری اپنی لاپرواہیوں کا نتیجہ ہے۔
سوچیے۔۔۔۔۔ لمحہ بھر کو سوچیے ۔۔۔۔۔ کہ موسمی بحران کی ذمہ داری صرف عالمی حالات ہیں یا قدرت کا بدلتا مزاج؟ اگر ہم ایمانداری سے اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکیں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ اس ماحولیاتی تباہی میں بڑا ہاتھ ہماری اپنی غفلت کا ہی ہے۔ ہم نے ماڈرن طرز زندگی، مادی ترقی اور ہاؤسنگ سوسائٹیز کے نام پر قدرتی شاہکاروں کا، ہرے بھرے درختوں کا، زرخیز زمینوں کا بے دریغ قتل عام کر دیا ہے۔
جہاں کبھی درختوں کی چھاؤں میں ہمارے اپنے سکون لیتے تھے۔
جہاں گھنے درختوں کی ٹہنیوں پر جھولے سجتے تھے۔
جہاں گھنے درخت گرمی کی شدت کو کم کرتے تھے۔
جہاں درختوں کے سائے کے نیچے سنگی ساتھی آپس میں مل بیٹھتے تھے۔
جہاں پودوں پر لگے پھولوں سے فضائیں معطر ہو جاتی تھیں۔
جہاں پھولوں پر سے تتلیاں رس چوستی تھیں۔
جہاں شہد کی طرح رشتے خالص اور میٹھے ہوا کرتے تھے۔
جہاں سب کے دکھ سب کے سکھ سانجھے ہوا کرتے تھے۔
جہاں گھنے درختوں کے سائے تلے محبتیں پروان چڑھتی تھیں۔
وہاں اب پتھروں اور کنکریٹ کے مکان تعمیر ہو چکے ہیں۔ پتھروں کے نہ جذبات ہوتے ہیں اور نہ احساسات ہوتے ہیں۔
شاعر نے کیا خوب کہا ہے اس بارے میں
کل رات جو ایندھن کے لیے کٹ کر گرا ہے۔
چڑیوں کو بہت پیار تھا اس بوڑھے شجر سے۔
اور باقی رہی سہی کسر پلاسٹک کے بے تحاشہ استعمال نے پوری کر دی ہے۔ پلاسٹک کے شاپرز کے بے دریغ استعمال نے ندی نالوں کے پانی کو روک رکھا ہے۔ جس کی وجہ سے معمولی بارش بھی سیلاب کا روپ دھاڑ لیتی ہے۔ ہمارا قصور یہ ہے کہ ہم نعمتوں کی ناقدری کرنے والے لوگ ہیں۔ روزانہ پینے کا پانی ہم بڑی بے دردی سے ضائع کرتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم جانتے بوجھتے اپنے پیروں پر خود کلہاڑی مار رہے ہیں۔ اس بات سے باہر نکل آئیں کہ موسمی تبدیلیوں اور سیلاب کے ریلوں کا قصوروار کون ہے بلکہ اس بات پر توجہ دیں کہ ہم اس بحران سے باہر کیسے آ سکتے ہیں؟ ہم نے ایک ہی کام پکڑ لیا ہے کہ اپنی ہر کمزوری کے لیے ہم قصور وار حکومت کو ٹھہرا دیتے ہیں۔ ہاں یہ بات سچ ہے کہ اگر حکومتی سطح پر کام کیے جائیں تو نتائج زیادہ اچھے مرتب ہوتے ہیں لیکن یہ بھی یاد رکھیں کہ قطرہ قطرہ ہی دریا بنتا ہے۔ ہمیں تو اپنے حصے کی شمع جلانی ہے۔ آگے بڑھیے۔۔۔۔ آج ہم اکیلے کھڑے ہوں گے تو کل ہمارے ساتھ معاون کھڑے ہوں گے۔ رب العزت کسی کی محنت کبھی ضائع نہیں کرتے اب وہ وقت آ گیا ہے کہ دوسروں کی غلطیاں گنوانے کی بجائے خود میدان عمل میں اترا جائے اور حکومتی پالیسیوں اور سیمینارز پر انحصار کرنے کی بجائے اب ہمیں بطور زندہ قوم، بطور فرد خود قدم اٹھانا ہے کیونکہ ہم نے کسی کے اعمال کا حساب نہیں دینا صرف اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ درختوں کا قتل عام کرنے کی بجائے ان کو زندگی دینی ہے۔ درخت لگانے ہیں۔ اگر ہم میں سے ہر انسان اپنے اپ سے ایک وعدہ کرے کہ ہر سال میں ایک درخت لگانا ہے۔ اس کا خیال رکھنا ہے۔ اس کی دیکھ بھال ایک ننھے بچے کی طرح کرنی ہے۔ پلاسٹک کے استعمال کو ترک کرنا ہے۔ پانی کی ہر بوند کو نعمت سمجھ کر اس کی قدر کرنی ہے۔ اس کو سنبھال کر رکھنا ہے۔ یاد رکھیے! زمین رب کی عطا کردہ نعمت ہے۔ جب نعمتوں اور ان سے وابستہ اشیاء کا خیال نہ رکھا جائے تو نعمتیں چھین لی جاتی ہیں۔ اگر ہم قدرت کی طرف سے آئے اشاروں کو نہ سمجھیں گے اور اپنے رویوں کو نہ بدلیں گے تو آنے والی نسلوں کے مجرم ہوں گے اور ہماری آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ نعمتوں کی قدر کیجیے نعمتوں کا حساب ہونا ہے۔
