لاہور واقعے پر وزیراعلیٰ نے مداخلت کی نہ اسحاق ڈار نے ،شورکیسا؟
بعض پولیس افسر سازش پر اترآئے، اپنے ہی ادارے کی بدنامی کا سبب بننے لگے
ملک کو بدنام کرنے ،اداروں کو متنازع بنانے اور بغیر ثبوت الزام تراشی بند کی جائے
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے عالمی امن کیلئے جو کردار اداکیا ،وہ کسی ڈھکا چھپا نہیں
وزیراعلیٰ پنجاب نے ہمیشہ میرٹ کو ترجیح دی ،اس کیس میں بھی میرٹ نظر آیا ،پھر تنقید کیوں؟
لاہور کے افسوسناک واقعے پر بہت سی باتیں کی جا رہی ہیں، لیکن اب تک سامنے آنے والی معلومات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کسی قسم کی مداخلت کی نہ نائب وزیر اعظم ووزیر خارجہ اسحاق ڈار نہ ہی کسی اور حکومتی شخصیت نے تحقیقات پر کوئی دباؤ ڈالا ، پولیس نے مقدمہ درج کیا، تحقیقات کا آغاز کیا، گرفتاریاں کیں اور قانونی کارروائی اپنے راستے پر چل رہی ہے،ایسے میں ضروری ہے کہ حقائق کو سامنے رکھا جائے اور بے بنیاد الزامات یا سیاسی مقاصد کے تحت چلائی جانے والی مہمات سے گریز کیا جائے، اگر قانون حرکت میں آ چکا ہے تو پھر سوشل میڈیا پر مسلسل شور شرابا، کردار کشی اور پاکستان کے خلاف منفی تاثر پیدا کرنے کا مقصد کیا ہے؟اطلاعات ہیں کہ پولیس کے اندر بعض عناصر اپنی پسند کی پوسٹنگ یا ترقی کے حصول کے لئے اس معاملے کو غیر ضروری طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر بعض افراد کو استعمال کر کے ایک مخصوص بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں، اگر ایسا ہے تو یہ طرزِ عمل نہ صرف ادارے کے وقار کے خلاف ہے بلکہ قومی مفاد کے بھی منافی ہے،ان افسران سے گزارش ہے کہ ذاتی مفادات، گروہی سیاست یا بہتر پوسٹنگ کی خواہش کو قومی مفاد پر ترجیح نہ دیں،پاکستان پہلے ہی بے شمار چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، ملک کو بدنام کرنے، اداروں کو متنازع بنانے اور منتخب قیادت پر بغیر ثبوت الزامات لگانے کے بجائے قانون کو اپنا کام کرنے دیا جائے،وزیراعلیٰ مریم نواز شریف اورنائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سمیت کسی بھی عوامی عہدے دار پر الزام لگانے سے پہلے ثبوت پیش کرنا ضروری ہے، خصوصاً اسحاق ڈار نے حالیہ برسوں میں پاکستان کے مؤقف کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں پیش کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جبکہ حکومتِ پنجاب کی ذمہ داری بھی قانون کے مطابق معاملات کو آگے بڑھانا ہے، اس لئے سیاسی یا ذاتی مفادات کے لئے ملک، اداروں اور منتخب نمائندوں کی ساکھ کو نقصان پہنچانا کسی طور قومی خدمت نہیں،آئیے اختلاف ضرور کریں، تنقید بھی کریں، لیکن حقائق، قانون اور قومی ذمہ داری کے دائرے میں رہ کر
لاہور واقعے پر وزیراعلیٰ نے مداخلت کی نہ اسحاق ڈار نے ،شورکیسا؟تجزیہ:شہزاد قریشی
