علم و حکمت کے افق پر بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی زندگی کا ہر ورق تاریخ کے ماتھے کا جھومر بن جاتا ہے۔ مالدیپ کی دینی، تعلیمی اور عدالتی تاریخ میں الشیخ اسماعیل محمد مالدیپی ( المعروف بہ تھویبہ ) ایک ایسے ہی عہد ساز اور جلیل القدر عالمِ دین تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی دعوت، تدریس اور ادارہ سازی کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ حال ہی میں 21 جون 2026 محرم الحرام 1448 ہجری کو تقریبا نو دہائیوں پر محیط یہ بابِ علم ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا، جس سے نہ صرف مالدیپ بلکہ پاکستان کے علمی حلقے بھی ایک مخلص اور دور اندیش مصلح سے محروم ہو گئے۔
1930 کی دہائی کے وسط تقریبا 1935 میں مالدیپ کے دور افتادہ جزیرے ‘دھاالو اتول میڈھو’ میں آنکھ کھولنے والے اسماعیل محمد نے ایک ایسے دور میں ہوش سنبھالا جب وہاں تعلیم کے مواقع نہ ہونے کے برابر تھے اور نہ ہی مقامی لوگوں میں حصول تعلیم کا کوئی خاص شوق تھا ۔ اسماعیل محمد اس اعتبار سے ایک منفرد بچے تھے کہ ماحول اور حالات سازگار نہ ہونے کے باوجود وہ حصول علم کے شوق وجذبہ سے بہرہ مند تھے ۔ذہین بھی تھے اور حصول علم کا جذبہ بھی تھا ۔ ابتدائی تعلیم انھوں نے مقامی اساتذہ سے حاصل کی ۔تاہم ان کی منزل اس سے بھی کہیں آگے تھی ۔ 1970 میں وہ مدینہ منورہ پہنچے اور مدینہ کی اس یونیورسٹی سے شرعی علوم کی ڈگری حاصل کی جسے مستقبل میں عالم اسلام کی سب سے بڑی یونیورسٹی بننے کا اعزاز حاصل ہونے والا تھا ۔یوں اسماعیل محمدمالدیپی مدینہ یونیورسٹی سے علم حاصل کرنے والے پہلے مالدیپی طالب علم بنے۔
وطن واپسی پر انہوں نے اپنی علمی بصیرت اور علمی وجاہت کا لوہا منوایا اور ایک طویل عرصے تک بحیثیت سینئر جج خدمات انجام دیں۔ انہوں نے اپنے ملک کی عدالتوں میں اسلامی قوانین، خصوصا عائلی و خاندانی معاملات اور وراثت کے پیچیدہ مسائل پر سینکڑوں ایسے فیصلے دیے جو آج بھی اور آنے والے وقت میں بھی عدالتی نظام کے لیے مشعلِ راہ ہیں ۔
جب انسان حق، سچ اور عدل وانصاف کے راستے پر چلتا ہے تو اسے آزمائشوں سے بھی گزرنا پڑتا ہے ۔ الشیخ اسماعیل بھی کئی قسم کی آزمائشوں سے گزرے ۔ مامون عبدالقیوم 1978 سے 2008 تک مالدیپ کے صدر رہے ۔ ان کے دور میں اگرچہ مالدیپ نے بہت ترقی کی لیکن ان کا طرز حکومت آمرانہ تھا ۔ وہ اختلاف رائے برداشت نہیں کرتے تھے ۔ پالیسیوں سے اختلاف کرنے والوں کیلئے مالدیپ کی زمین تنگ ہوجاتی ۔ الشیخ اسماعیل محمد بھی نظر بند کردیے گئے ۔ رہائی کے بعد انھوں نے ہجرت کا فیصلہ کیا ۔ اگرچہ دنیا کے بہت سے ممالک میں ان کے دوست ، ساتھی اور شاگرد موجود تھے وہ کسی بھی ملک میں جاسکتے تھے لیکن انھوں نے پاکستان کو ترجیح دی ۔ اور پاکستان تشریف لے آئے۔کیونکہ وہ پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے تھے۔ یہاں انہوں نے جامعہ سلفیہ فیصل آباد کو اپنا مسکن بنایا اور بحیثیت مفتی و استاد طویل عرصے تک درس وتدریس کے فرائض انجام دیتے رہے ۔ تدریس کے ساتھ ساتھ قریبی شہری علاقوں میں دعوتی دروس کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔
جامعہ سلفیہ میں دوران تدریس ان کا سب سے بڑا کارنامہ مالدیپ کے سینکڑوں طلبہ کو یہاں کے مقتدر تعلیمی اداروں اور مدارس میں اعلی تعلیم کے مواقع فراہم کرنا تھا۔ انہوں نے ان طلبہ کی نہ صرف رہنمائی
کی بلکہ ان کی کفالت بھی کی ۔ آج یہی طلبہ مالدیپ کی وزارتوں، عدالتوں اور جامعات میں کلیدی عہدوں پر فائز ہو کر ملک کا نظام چلا رہے ہیں۔
شیخ اسماعیل محمد نے تدریس وتبلیغ کے ساتھ علم کو عوامی فہم کے مطابق ڈھالنے کے لیے بھی گراں قدر کام کیا۔ ان کے علمی کارنامے بیان کرنے کیلئے ہزاروں صفحات درکار ہیں تاہم مختصرا یہ ہے کہ انھوں نے مالدیپ کی مقامی زبان ‘دیویہی’ (Dhivehi) میں قرآن مجید کا سلیس ترجمہ کیا۔ عربی زبان میں 40 سے زائد کتب اور علمی رسائل تحریر کیے۔ عام لوگوں کی رہنمائی کیلئے روزمرہ کے احکام ، نماز، روزہ، زکو ، حج اور خاندانی قوانین پر دیویہی زبان میں آسان رسائل کی ترتیب وتصنیف اور اشاعت کا کام کیا ۔
الشیخ اسماعیل محمد کی خدمات تدریس وتصنیف تک ہی محدود نہیں انھوں نے عوامی فلاح اور جدید و دینی تعلیم کے حسین امتزاج کے لیے دارالحکومت مالے میں تھویبہ اسکول کی بھی بنیاد رکھی۔ اپنی زندگی کے آخری ایام میں بھی وہ متحرک رہے اور مارچ 2025 میں ہلہومالے میں اپنے ذاتی فنڈز سے ایک عظیم الشان اسلامی مرکز اور مسجد ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی تعمیر شروع کروائی جس کا سنگِ بنیاد موجودہ صدر ڈاکٹر محمد معزو نے رکھا تھا ۔ اس مسجد کے ساتھ ایک جدید ریسرچ سینٹر اور لائبریری بھی قائم کی جا رہی ہے۔
الشیخ اسماعیل محمد کی نصف صدی پر محیط بے لوث خدمات کی وجہ سے جہاں مالدیپ کے مذہبی ، سماجی اور علمی حلقوں میں ان کیلئے بے پناہ محبت پائی جاتی ہے وہاں حکومتی سطح پر بھی انکی خدمات کا اعتراف کیا جاتا
ہے ۔انہی خدمات کے اعتراف میں مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معزو نے انہیں 20 اپریل 2025 اسلامک یونیورسٹی آف مالدیپ (IUM) کی تاریخ کی پہلی "اعزازی ڈاکٹریٹ” کی ڈگری دی ۔ جبکہ اگست 2025 میں انھیں ملک کا اعلی ترین سول اعزاز "نیشنل ایوارڈ آف آنر” دیا گیا ۔
حقیقت یہ ہے کہ الشیخ اسماعیل محمد کبھی مالدیپ کے صدر رہے اور نہ کوئی حکومتی عہدہ ان کے پاس رہا اس کے باوجود وہ مالدیپ کی معروف اور مقبول ترین شخصیت تھے یہی وجہ ہے کہ جیسے ہی ان کی وفات کی خبر عام ہوئی پورا مالدیپ سوگوار ہوگیا ۔ان کی وفات کی خبر جنگل کی آگ کی طرح مالدیپ سمیت دنیا بھر میں پھیل گئی ۔ ا لشیخ اسماعیل محمد کی وفات صرف ایک فرد کی جدائی نہیں، بلکہ مالدیپ کی دینی، علمی اور تعلیمی تاریخ کے ایک روشن باب کے اختتام کا نام ہے۔ آج مالدیپ کی فضائیں گویا اشکبار ہیں۔ ہر آنکھ نم ہے، ہر دل غم سے بوجھل ہے اور ہر زبان پر یہی دعا ہے کہ اللہ تعالی اپنے اس نیک بندے کی مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔ ایسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں اور ان کی جدائی قوموں کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہوتی ہے۔ مالدیپ کے سرکاری ذرائع کے مطابق الشیخ اسماعیل محمد کی نمازِ جنازہ ان کی تعمیر کردہ مسجد ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا ہلہومالے میں ادا کی گئی اور وہیں وہ خاکِ لحد کے سپرد ہوئے۔
شیخ اسماعیل محمد دنیا سے رخصت ہو گئے لیکن اپنے پیچھے شاگردوں اور فکری پیروکاروں کی ایک ایسی پوری نسل چھوڑ گئے جو مالدیپ کی مذہبی، عدالتی اور تعلیمی قیادت کر رہی ہے۔ راقم الحروف ڈاکٹر حافظ مسعود عبد الرشید اظہر کو بھی جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں الشیخ اسماعیل کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے ۔الشیخ اسماعیل محمد کیساتھ فیملی تعلقات تھے۔ والد محترم ڈاکٹر حافظ عبد الرشید اظہر رحمہ اللہ تعالی کیساتھ قلبی لگا بھی تھا اور عقیدت کا رشتہ بھی، راقم الحروف کا بچپن بھی جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں الشیخ اسماعیل محمد کی ہمسائیگی میں گزرا۔ بعد ازاں راقم الحروف کو جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں داخلہ کروانے والے الشیخ اسماعیل محمد ہی تھے وہ مجھے اسلام آباد سے اپنے ساتھ فیصل آباد لیکر آئے اور جامعہ سلفیہ میں راقم کا ایڈمیشن کروایا اور پورے تعلیمی دورانیہ میں سرپرستی اور رہنمائی بھی فرماتے رہے ۔اللہ تعالی شیخ محترم کی تمام عدالتی، تدریسی اور تصنیفی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، انکے صاحبزادے محمد آمین اور دیگر پسماندگان اور سوگوار تلامذہ کو صبرِ جمیل دے اور ان کے قائم کردہ اداروں کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔آمین ثم آمین !
