اتر پردیش کے ضلع بریلی میں ایک خاتون کی شکایت کے بعد پولیس کے ایک سب انسپکٹر کو معطل کر دیا گیا ہے۔
خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپنے شوہر کے خلاف جہیز اور گھریلو تشدد کی شکایت درج کرانے کے لیے تھانے گئی تھی، جہاں تعینات سب انسپکٹر نے پہلے ہمدردی ظاہر کی، پھر شادی کا وعدہ کرکے اس کے ساتھ ذاتی تعلقات قائم کیے، مالی فائدہ حاصل کیا اور بعد میں دھمکیاں بھی دیں۔شکایت سامنے آنے کے بعد سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ افسر کو معطل کر دیا اور پورے معاملے کی تحقیقات ایک آئی پی ایس افسر کے سپرد کر دی ہیں۔
معاملہ کیسے شروع ہوا؟
متاثرہ خاتون کے مطابق وہ اپنے شوہر کے خلاف جہیز سے متعلق مقدمے کی شکایت لے کر تھانہ بارادری پہنچی تھی۔ اس دوران سب انسپکٹر نے اس کی شکایت سننے کے بعد کارروائی کا یقین دلایا اور رابطے کے لیے اس کا موبائل نمبر حاصل کیا۔خاتون کا کہنا ہے کہ بعد میں تفتیش کے بہانے پولیس افسر اس سے مسلسل رابطے میں رہا اور آہستہ آہستہ ذاتی تعلقات قائم کر لیے۔
شادی اور ملازمت کا وعدہ
شکایت کے مطابق سب انسپکٹر نے خاتون کو یقین دلایا کہ وہ اپنی بیوی سے علیحدہ ہو چکا ہے اور جلد اس سے شادی کرے گا۔ خاتون کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ملزم نے پولیس محکمے میں ملازمت دلانے کا وعدہ بھی کیا اور اسی بنیاد پر اس کا اعتماد حاصل کیا۔
لاکھوں روپے کے زیورات لینے کا الزام
متاثرہ خاتون نے اپنی درخواست میں الزام لگایا ہے کہ فروری 2026 میں سب انسپکٹر نے اپنے بیٹے کی شادی کا بہانہ بنا کر تقریباً آٹھ لاکھ روپے مالیت کے سونے کے زیورات حاصل کیے۔ بعد ازاں جب خاتون نے زیورات واپس مانگے تو اسے مختلف بہانوں سے ٹالا جاتا رہا۔
حمل اور اسقاط حمل سے متعلق الزامات
خاتون نے اپنی شکایت میں یہ بھی کہا ہے کہ تعلقات کے دوران وہ حاملہ ہوئی، جس کے بعد ملزم نے شادی سے انکار کرتے ہوئے مبینہ طور پر اس پر حمل ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔خاتون کا دعویٰ ہے کہ 12 مئی 2026 کو اسے اسقاط حمل کی دوا دی گئی، جس کے باعث اس کی طبیعت بگڑ گئی اور اسے اسپتال میں داخل ہونا پڑا۔ اس نے یہ بھی الزام لگایا کہ اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ اس کا حمل ختم کرایا گیا۔
شکایت پر ایس ایس پی کا ایکشن
خاتون نے ثبوتوں کے ساتھ سینئر پولیس حکام سے رابطہ کیا، جس کے بعد ایس ایس پی نے ابتدائی جانچ کی بنیاد پر متعلقہ سب انسپکٹر کو معطل کر دیا۔پولیس حکام کے مطابق پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات جاری ہیں اور انکوائری رپورٹ آنے کے بعد قانون کے مطابق مزید کارروائی کی جائے گی۔
تحقیقات جاری، حتمی فیصلہ رپورٹ کے بعد
فی الحال معاملہ تفتیش کے مرحلے میں ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تمام شواہد کا جائزہ لینے کے بعد حقائق کی بنیاد پر کارروائی کی جائے گی۔ اگر الزامات درست ثابت ہوئے تو متعلقہ افسر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ تحقیقات میں مختلف حقائق سامنے آنے کی صورت میں فیصلہ انہی کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
