میرٹھ: بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر میرٹھ میں ڈکیتی کے ایک سنسنی خیز مقدمے میں پولیس نے مبینہ طور پر ایک خاتون سمیت متعدد ملزمان کو گرفتار کر لیا، جن میں سوشل میڈیا پر سرگرم دلہن جیوتی چودھری بھی شامل ہے، جسے پولیس نے ہنی مون کے دوران گرفتار کیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق جیوتی چودھری نے مبینہ طور پر پہلی شادی ختم کرنے کے بعد دوسری شادی کی اور شوہر کے ساتھ ہری دوار میں ہنی مون منا رہی تھی۔ اسی دوران وہ انسٹاگرام پر مسلسل ریلز اور ویڈیوز شیئر کر رہی تھی، جن کی مدد سے پولیس نے اس کی لوکیشن کا سراغ لگا کر اسے گرفتار کر لیا۔پولیس کے مطابق یہ کارروائی 12 جون کو پیش آنے والی ڈکیتی کی واردات کی تحقیقات کے دوران عمل میں آئی۔ واقعے میں پے ٹی ایم کمپنی کے ایک ٹیم لیڈر آکاش شرما کو راستے میں روک کر ان سے موٹر سائیکل اور موبائل فون چھین لیا گیا تھا۔ ابتدائی طور پر مقدمہ لوٹ مار کا درج کیا گیا، تاہم پانچ ملزمان کے ملوث ہونے کے باعث بعد ازاں ڈکیتی کی دفعات بھی شامل کر دی گئیں۔
تحقیقات کے دوران گرفتار ملزمان نے جیوتی چودھری کا نام لیا، جس کے بعد پولیس نے اس کی تلاش شروع کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جیوتی نے مبینہ طور پر ایک جرائم پیشہ گروہ سے تعلق قائم کیا اور مختلف وارداتوں میں شریک رہی۔تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا کہ جیوتی نے 23 جون کو موہت نگر نامی شخص سے دوسری شادی کی، جس کے بعد دونوں ہری دوار چلے گئے تھے، جہاں سے پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا۔پولیس حکام کے مطابق جیوتی چودھری کا نام ماضی میں ہنی ٹریپ کے ایک مقدمے اور ایک مبینہ گینگسٹر سے تعلقات کے حوالے سے بھی سامنے آ چکا ہے۔ پولیس اس کے مبینہ مجرمانہ ریکارڈ کی مزید چھان بین کر رہی ہے۔ادھر پولیس نے اس کیس میں دیگر ملزمان انکت شرما، گورو شرما، شنی عرف شیوم اور دیگر کو بھی گرفتار کر لیا ہے، جبکہ ایک ملزم پہلے ہی کسی دوسرے مقدمے میں جیل میں موجود ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے کی مزید تفتیش جاری ہے اور گروہ سے متعلق مزید انکشافات سامنے آنے کا امکان ہے۔
