کراچی کے علاقے نیپیئر میں 6 سالہ بچے کے اغوا، مبینہ زیادتی اور قتل کے دلخراش واقعے نے شہر بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی۔ پولیس نے واقعے میں ملوث مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا ہے، جو مقتول بچے کا پڑوسی بتایا جاتا ہے۔
پولیس کے مطابق 6 سالہ ولی پیر کی شام گھر کے باہر کھیلتے ہوئے لاپتا ہوگیا تھا، جس کے بعد اہل خانہ اور اہل علاقہ مسلسل دو روز تک اس کی تلاش میں مصروف رہے۔ بعد ازاں بچے کی تشدد زدہ لاش بوری میں بند حالت میں برآمد ہوئی، جسے پولیس نے تحویل میں لے کر قانونی کارروائی کے لیے سول اسپتال منتقل کردیا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے دوران یہ شبہ سامنے آیا ہے کہ بچے کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا گیا، تاہم واقعے کی حتمی نوعیت اور موت کی اصل وجہ کا تعین پوسٹ مارٹم اور فرانزک رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔ گرفتار ملزم سے تفتیش جاری ہے اور مزید شواہد بھی جمع کیے جا رہے ہیں۔
مقتول بچے کی والدہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان کے بیٹے کی مسخ شدہ لاش بوری میں بند کرکے تین منزلہ عمارت سے نیچے پھینکی گئی۔ انہوں نے کہا کہ خاندان گزشتہ دو روز سے بچے کو تلاش کر رہا تھا، جبکہ ملزم مسلسل انہیں گمراہ کرتا رہا۔اہل خانہ کا کہنا ہے کہ واردات ملزم کے گھر میں انجام دی گئی۔ ان کے مطابق جب بھی انہوں نے شک کی بنیاد پر ملزم کے گھر جانے کی کوشش کی، اس نے انہیں اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔ اہل خانہ نے مزید بتایا کہ ملزم خود بھی بچے کی تلاش میں ان کے ساتھ شامل رہ کر بے گناہی کا تاثر دیتا رہا۔
مقتول کے والد، جو پیشے کے اعتبار سے رکشہ چلاتے ہیں، نے بتایا کہ ان کے چار بیٹیوں اور ایک بیٹے پر مشتمل پانچ بچے تھے، جن میں 6 سالہ ولی سب سے چھوٹا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے اکلوتے بیٹے کا بے رحمانہ قتل پورے خاندان کے لیے ناقابل برداشت سانحہ ہے۔دوسری جانب اہل علاقہ نے دعویٰ کیا کہ مشتبہ ملزم حمزہ کو انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت قابو کرکے پولیس کے حوالے کیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، جبکہ شہریوں نے ملزم کو قرار واقعی سزا دینے اور بچوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے اور پوسٹ مارٹم، فرانزک شواہد اور دیگر رپورٹس کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ دوسری جانب مقتول کے اہل خانہ نے حکومت سندھ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے ملزم کو جلد از جلد سخت ترین قانونی سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے
