الیکشن کمیشن نے تحریک لبیک پاکستان کا انتخابی نشان واپس لے لیا
الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی الیکشن کیس کا محفوظ فیصلہ جاری کر دیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان الیکشن کے سیکشن 209 کے تحت انٹرا پارٹی الیکشن کروانے میں ناکام رہی،الیکشن کمیشن نے پارٹی کے حالیہ انٹرا پارٹی انتخابات کو مسترد کر دیا، الیکشن کمیشن نے الیکشن ایکٹ کے سیکشن 215 ذیلی شق پانچ کے تحت پارٹی سے کرین کا انتخابی نشان واپس لے لیا۔الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق 7 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے پارٹی سے اس کا انتخابی نشان کرین واپس لے لیا اور قرار دیا کہ ٹی ایل پی آئین اور الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت شفاف انٹرا پارٹی انتخابات کرانے میں ناکام رہی، اس لیے وہ انتخابی نشان برقرار رکھنے کی اہل نہیں رہی۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں جاری فیصلے میں متعلقہ دفتر کو فوری فالو اپ کارروائی کی بھی ہدایت دی گئی۔
فیصلے کے مطابق ٹی ایل پی کے آخری انٹرا پارٹی انتخابات 28 دسمبر 2021 کو ہوئے تھے جن کی مدت 28 دسمبر 2025 کو ختم ہوگئی، تاہم مقررہ وقت گزرنے کے باوجود پارٹی نے نئے انتخابات منعقد نہیں کیے۔ الیکشن کمیشن نے بتایا کہ مدت ختم ہونے کے بعد بھی چھ ماہ تک پارٹی کی جانب سے کوئی اطلاع یا کارروائی سامنے نہیں آئی، جبکہ وقت میں توسیع کی درخواست بھی پانچ ماہ کی تاخیر سے بغیر کسی معقول وجہ کے جمع کرائی گئی۔ کمیشن نے یہ درخواست 19 مئی 2026 کو مسترد کر دی تھی اور اس فیصلے کو کسی بھی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ راجہ امیر شہزاد نامی شخص کو پارٹی کی جانب سے توسیع مانگنے کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں تھا۔ دورانِ سماعت ٹی ایل پی کے نمائندوں نے اعتراف کیا کہ انہیں اپنے مرکزی امیر کے مقام یا رابطے کے بارے میں علم نہیں، تاہم اس کے باوجود دعویٰ کیا گیا کہ انٹرا پارٹی انتخابات انہی کی نگرانی میں کرائے گئے، جسے کمیشن نے ناقابلِ قبول قرار دیا۔
الیکشن کمیشن نے 6 جولائی 2026 کو کرائے گئے انٹرا پارٹی انتخابات کے دستاویزات بھی مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ یہ الیکشن رولز 2017 کے رول 158(1) کے مطابق نہیں تھے۔ فیصلے کے مطابق انتخابات کا شیڈول 15 روز قبل جاری کرنے کے بجائے صرف 11 روز پہلے دیا گیا، نامزدگی فارم، امیدواروں اور شرکاء کی حاضری کا کوئی ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا، جبکہ نئے منتخب عہدیداروں کے شناختی کارڈز کی تصدیق شدہ نقول بھی جمع نہیں کرائی گئیں۔ کمیشن نے قرار دیا کہ دستیاب ریکارڈ کی روشنی میں یہ کارروائی فرضی اور جعلی دکھائی دیتی ہے۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ٹی ایل پی کے آئین میں مستقل الیکشن بورڈ کی شق موجود ہے، تاہم پارٹی نے تین مختلف مواقع پر الیکشن اتھارٹی تبدیل کی، جو اس کے اپنے آئین سے انحراف ہے۔ الیکشن کمیشن نے نتیجہ اخذ کیا کہ ٹی ایل پی نہ صرف اپنے آئین کے مطابق بروقت انٹرا پارٹی انتخابات کرانے میں ناکام رہی بلکہ الیکشن قوانین کی متعدد لازمی شرائط بھی پوری نہیں کر سکی، جس کے باعث پارٹی کے انٹرا پارٹی انتخابات اور انتخابی نشان سے متعلق دعوے مسترد کر دیے گئے۔
