اسلام آباد: خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر پاکستان نے ایک بار پھر جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی کے لیے پس پردہ سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان کی اعلیٰ سول اور عسکری قیادت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور مختلف دوست ممالک کے ساتھ رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چین، قطر، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے اعلیٰ حکام سے مسلسل مشاورت کی جا رہی ہے تاکہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔ذرائع کے مطابق ان سفارتی رابطوں کا بنیادی مقصد اسلام آباد کی مفاہمتی کوششوں کے تحت طے پانے والے معاہدے کو برقرار رکھنا اور فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔ اسی تناظر میں ایرانی وزیرِ داخلہ سکندر مومنی کا حالیہ دورۂ پاکستان بھی انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک مرتبہ پھر ثالث کے طور پر عرب اور خلیجی ممالک کے لیے غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے، جبکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے اسلام آباد کی سفارتی کاوشوں کو مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار روزانہ کی بنیاد پر دوست ممالک کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ حکام سے رابطے میں ہیں اور انہیں خطے کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ رکھنے کے ساتھ ساتھ امن کے لیے مشترکہ لائحہ عمل پر بھی تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔سفارتی ذرائع نے مزید بتایا کہ پاکستانی حکام کے امریکی محکمہ خارجہ، وائٹ ہاؤس اور امریکی سینیٹ کے متعلقہ حکام سے بھی رابطے جاری ہیں۔ ان روابط کا مقصد کشیدگی میں کمی لانا، دونوں ممالک کے درمیان حملوں کا سلسلہ رکوانا اور بعد ازاں مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔
زرائع کے مطابق پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ خطے میں پائیدار امن صرف سفارت کاری، مذاکرات اور باہمی اعتماد کے ذریعے ہی ممکن ہے، اسی لیے اسلام آباد تمام متعلقہ فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنے اور تنازع کا پرامن حل تلاش کرنے پر زور دے رہا ہے۔
