Baaghi TV

ڈسٹرکٹ اور ڈویژن بڑھ سکتے ہیں تو صوبے کیوں نہیں بڑھ سکتے؟،خالد مقبول

ایم کیو ایم کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے کہا ہےکہ سندھو دیش کا نعرہ غداری نہیں لیکن سندھ میں نیا صوبہ بنانا غداری کہا جاتا ہے۔

ڈیلس میں اسٹینڈ ود پاکستان کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی کہا کہ پاکستان میں آبادی کے ساتھ نئے صوبوں کا قیام ضروری ہے، لسانی نہیں، انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بننے چاہئیں، ڈسٹرکٹ اور ڈویژن بڑھ سکتے ہیں تو صوبے کیوں نہیں بڑھ سکتے؟ ،سندھو دیش کا نعرہ غداری نہیں، سندھ میں نیا صوبہ بنانا غداری کہا جاتا ہے موجودہ 4 صوبے لسانی بنیادوں پر قائم ہیں، پاکستان کو انتظامی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی ضرورت ہے اور یہی ملک میں پولرائزیشن ختم کرنے کا راستہ ہے صوبوں کی تقسیم کو غداری قرار دینا درست نہیں، سندھ میں نئے صوبے کا مطالبہ غداری قرار دیا جاتا ہے جبکہ ملک کی تقسیم کو غداری نہیں کہا گیا۔

کراچی کے حوالے سے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ 2008ء تک کراچی دنیا کے 10 ابھرتے ہوئے شہروں میں شمار ہوتا تھا اور پورا پاکستان کراچی کے بلدیاتی نظام کی طرف دیکھ رہا تھا تمام حالات کے باوجود کراچی قومی بجٹ کا 60 فیصد فراہم کر رہا ہے جبکہ سندھ کے بجٹ کا 97 فیصد کراچی دیتا ہے، حیدر آباد، میرپورخاص، نوابشاہ اور سکھر مل کر باقی حصہ فراہم کرتے ہیں-

انہوں نے کہا کہ کراچی قومی اور صوبائی معیشت میں سب سے بڑا حصہ دیتا ہے، کراچی کے وسائل پر کراچی کا اختیار نہ ہونے کے برابر ہے، سندھ میں ایک طبقہ بجٹ بناتا ہے اور دوسرا اسے خرچ کرتا ہے جب کہ مردم شماری میں کراچی کے ساتھ ناانصافی ہوئی، اکیلا لیاقت آباد اتنا جی ایس ٹی دیتا ہے جتنا پاکستان کا دوسرا بڑا شہر۔

مردم شماری پر سوال اٹھاتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ گزشتہ 30 برس میں سب سے بڑی شہری آبادی میں اضافہ کراچی میں ہوا لیکن کاغذا ت میں کراچی کی آبادی میں 90 فیصد اضافہ دکھایا گیا جبکہ سندھ کے ایک اور شہر کی آبادی میں 780 فیصد اضافہ ظاہر کیا گیا جو ریاست ایمانداری سے مردم شماری نہیں کروا سکتی وہ کیا ایمانداری سے مردم شناسی کر سکتی ہے؟ تعصب سچ نہیں ہوتا لیکن سچ بھی تعصب نہیں ہوتا، اعداد و شمار درست ہوں تو انہیں تعصب قرار نہیں دیا جا سکتا۔

کراچی کے حالات کے حوالے سے خالد مقبول صدیقی نے الزام عائد کیا کہ ماضی میں شہر کے حالات جان بوجھ کر خراب کیے گئے تاکہ سرمایہ ملک کے دیگر حصوں میں منتقل ہو، تاہم یہ سرمایہ بنگلا دیش، ملائیشیا اور افریقی ممالک تک منتقل ہو گیاکراچی والوں کا قصور بھی ہے، ان کا لہجہ معذرت خواہانہ ہے اور وہ اپنی شناخت پر شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔

تعلیم سے متعلق سوال کے جواب میں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ اس کا جواب صوبائی وزراء ہی دے سکتے ہیں تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ وزارت ہے کیوں؟ایم کیو ایم چیئرمین کا کہنا تھا کہ پاکستان کا اصل مسئلہ ٹریڈ ڈیفیسٹ سے زیادہ ٹرسٹ ڈیفیسٹ ہے، آئی ایم ایف حکومت بچاسکتا ہے، ملک نہیں، 18یں ترمیم نے اختیارات وفاق سے صوبوں تک پہنچائے،عوام تک نہیں، پاکستان طاقت سے نہیں، انصاف سے قائم رہ سکتا ہے-

More posts