Baaghi TV

انسانیت موسمیاتی تباہی سے بچنے کی حد سے تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے،سیکرٹری اقوام متحدہ

un

اقوام متحدہ کی نئی رپورٹ کے مطابق دنیا موسمیاتی تبدیلی کے خطرناک اثرات سے بچنے کے لیے مقرر کردہ 1.5 ڈگری سیلسیس کی حد جلد عبور کر جائے گی-

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) کی نئی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ کوئلے، تیل اور گیس کے مسلسل استعمال سے زمین کا اوسط درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں 1.5 ڈگری سیلسیس کی حد عبور کرنے والا ہےاقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ انسانیت موسمیاتی تباہی سے بچنے کی حد سے تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق دنیا اس وقت صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں تقریباً 1.4 ڈگری سیلسیس زیادہ گرم ہوچکی ہے اور اقوام متحدہ کی رپورٹ نے پہلی مرتبہ تسلیم کیا ہے کہ 1.5 ڈگری کی حد آئندہ چند برسوں میں عبور ہوجائے گی موجودہ حکومتی پالیسیوں کے تحت 2100 تک عالمی درجہ حرارت میں تقریباً 2.6 ڈگری سیلسیس اضافہ ہوسکتا ہے، جبکہ موسمیاتی اہداف پر انتہائی مؤثر انداز میں عمل کیا جائے تو درجہ حرارت صدی کے وسط میں تقریباً 1.8 ڈگری پر پہنچ کر بلند ترین سطح حاصل کرسکتا ہے۔‘

اقوام متحدہ نے اب ’اوور شوٹ‘ حکمت عملی تجویز کی ہے، جس کے تحت پہلے درجہ حرارت میں اضافے کی بلند ترین سطح کو محدود کیا جائے گا اور پھر کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی اور فضا سے کاربن نکالنے کے ذریعے عالمی درجہ حرارت کو بتدریج 1.5 ڈگری سے نیچے لانے کی کوشش کی جائے گی،اس مرحلے میں دنیا کو کئی دہائیوں تک شدید گرمی، سیلاب، خشک سالی، سمندر کی سطح میں اضافے، برفانی تودوں اور گلیشیئرز کے پگھلنے جیسے مسائل کا سامنا رہ سکتا ہے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بڑھتی ہوئی گرمی سے خوراک کی پیداوار متاثر، پانی کی قلت میں اضافہ اور مزید اموات و بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے، جبکہ مرجانی چٹانوں سمیت کئی انواع کے معدوم ہونے کا خطرہ بھی بڑھے گا گرین لینڈ اور مغربی انٹارکٹیکا کی برفانی چادروں کا نقصان، ایمیزون کے جنگلات کا خاتمہ اور بحرِ اوقیانوس کے اس نظام میں خلل جو یورپ کے بیشتر حصے کو نسبتاً گرم رکھتا ہے، ممکنہ خطرناک ’ٹِپنگ پوائنٹس‘ میں شامل ہیں، سائنس دانوں کے مطابق 1.5 ڈگری کی حد کوئی ایسی ’موسمیاتی کھائی‘ نہیں جس کے بعد سب کچھ ختم ہوجائے، بلکہ ہر ایک ڈگری کا معمولی حصہ بھی بچانا موسمیاتی نقصانات کو کم کرنے میں مددگار ہوگا۔

More posts