Baaghi TV

‎ادویات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، حکومت نے 37 فارما کمپنیوں سے جواب طلب کر لیا

‎ڈی ریگولیٹڈ ادویات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے معاملے نے سنگین صورت اختیار کر لی ہے، جس پر وفاقی حکومت نے سخت نوٹس لیتے ہوئے 37 فارما کمپنیوں سے وضاحت طلب کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے ان کمپنیوں سے ادویات کی قیمتوں میں 50 فیصد سے زائد اضافے کی وجوہات بیان کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
‎ذرائع کے مطابق بعض ادویات کی قیمتوں میں کم از کم 76.8 فیصد جبکہ زیادہ سے زیادہ 1621 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس پر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ کمپنیوں کو اظہارِ وجوہ کے نوٹسز جاری کیے ہیں۔
‎وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ انہوں نے ادویات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کرنے والی فارما کمپنیوں کو نوٹس جاری کرنے کی ہدایت دی تھی۔ ان کے مطابق تمام کمپنیوں سے قیمتوں میں 50 فیصد سے زیادہ اضافے کی تفصیلی وجوہات طلب کی گئی ہیں تاکہ معاملے کا شفاف جائزہ لیا جا سکے۔
‎وزارت صحت کے ذرائع کے مطابق نوٹسز مقامی اور ملٹی نیشنل، دونوں نوعیت کی فارما کمپنیوں کو بھیجے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر 37 کمپنیوں سے 92 مختلف ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے جواب طلب کیا گیا ہے۔
‎ذرائع نے بتایا کہ اب تک 12 فارما کمپنیوں نے 35 ادویات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق اپنے جوابات جمع کرا دیے ہیں، جبکہ دو کمپنیوں نے جواب جمع کرانے کے لیے مزید مہلت کی درخواست کی ہے۔
‎دوسری جانب 23 فارما کمپنیوں نے تاحال اظہارِ وجوہ کے نوٹسز کا کوئی جواب جمع نہیں کرایا، جس پر انہیں یاد دہانی نوٹس بھی ارسال کر دیے گئے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ تمام کمپنیوں کے جوابات موصول ہونے کے بعد ان کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور قواعد و ضوابط کے مطابق آئندہ کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔
‎ادویات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر مریضوں اور عوامی حلقوں نے بھی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ عوام کے مفادات کا ہر صورت تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔

More posts