یمنی حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں ناکہ بندی کے دعوؤں کے باوجود چین کے دو آئل ٹینکرز سعودی عرب کا خام تیل لے کر باب المندب کی اہم آبی گزرگاہ سے بحفاظت گزر گئے۔ اس پیش رفت کو خطے میں جاری کشیدگی کے دوران عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
شپنگ ڈیٹا فراہم کرنے والی کمپنی کے مطابق 23 جولائی کو مجموعی طور پر 32 بحری جہاز باب المندب سے گزرے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیکیورٹی خدشات کے باوجود اس اہم سمندری راستے پر تجارتی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل نہیں ہوئیں۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز میں جہاز رانی میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ شپنگ ڈیٹا کے مطابق 23 جولائی کو اس اہم آبی گزرگاہ سے صرف ایک بحری جہاز گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔ ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطے میں سیکیورٹی خدشات کے باعث کئی شپنگ کمپنیاں متبادل راستوں پر غور کر رہی ہیں یا اپنے جہازوں کی نقل و حرکت محدود کر رہی ہیں۔
باب المندب اور آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے عالمی تجارت اور تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ ان راستوں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا کشیدگی عالمی توانائی کی سپلائی، شپنگ انڈسٹری اور بین الاقوامی منڈیوں پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
حالیہ صورتحال کے باعث عالمی شپنگ کمپنیوں اور توانائی کی منڈیوں کی نظریں ان دونوں آبی راستوں پر مرکوز ہیں، جبکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔
حوثیوں کی ناکہ بندی کے باوجود چینی آئل ٹینکرز سعودی تیل لے کر باب المندب سے گزر گئے
