Baaghi TV


ایران نے امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، آبنائے ہرمز تنازع بنیادی وجہ قرار

iran

‎ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکا کی جنگ بندی کی تجویز کو باضابطہ طور پر مسترد کر دیا ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمزکی رپورٹ کے مطابق یہ تجویز عراقی وزیرِ اعظم کے ذریعے تہران پہنچائی گئی تھی، تاہم ایرانی حکام نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
‎رپورٹ کے مطابق ایران کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں کسی بھی عارضی یا محدود جنگ بندی پر اتفاق اس وقت تک ممکن نہیں جب تک آبنائے ہرمز سے متعلق بنیادی تنازع کا واضح، شفاف اور مستقل حل سامنے نہ آئے۔ تہران کا کہنا ہے کہ اس اہم معاملے کو نظر انداز کرتے ہوئے کسی بھی جنگ بندی کی پیشکش دیرپا امن کی ضمانت نہیں بن سکتی۔
‎ذرائع کے مطابق ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال خطے کی سلامتی، عالمی توانائی کی ترسیل اور ایران کے قومی مفادات سے براہِ راست جڑی ہوئی ہے، اس لیے اس مسئلے کے حل کے بغیر کسی بھی جنگ بندی کو قابلِ قبول نہیں سمجھا جا سکتا۔
‎امریکی اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کی غرض سے جنگ بندی کی تجویز عراق کے ذریعے ایران تک پہنچائی گئی تھی، تاہم تہران نے اسے ناکافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر بنیادی تنازعات حل کیے بغیر صرف عارضی جنگ بندی کی جائے تو مستقبل میں دوبارہ تصادم کے امکانات برقرار رہیں گے۔
‎واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ شدت اختیار کرنے والا یہ تنازع تقریباً دو ہفتوں سے جاری ہے، جس کے باعث پورے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے۔ اس دوران متعدد فوجی کارروائیاں، حملے اور جوابی اقدامات سامنے آ چکے ہیں، جبکہ عالمی برادری مسلسل دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور سفارتی ذرائع سے تنازع کے حل پر زور دے رہی ہے۔
‎ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے، جہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی بین الاقوامی منڈیوں اور خطے کی سیکیورٹی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس تنازع پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہیں اور سفارتی کوششیں تاحال جاری ہیں۔

More posts