Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • 
کراچی میں گھر کے باہر 13 سالہ لڑکا مردہ حالت میں ملا، پراسرار ہلاکت کی تحقیقات شروع

    
کراچی میں گھر کے باہر 13 سالہ لڑکا مردہ حالت میں ملا، پراسرار ہلاکت کی تحقیقات شروع

    ‎کراچی: شہر کے علاقے پپری سندھی گوٹھ میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں 13 سالہ لڑکا اپنے گھر کے باہر مردہ حالت میں پایا گیا۔ پولیس نے واقعے کو پراسرار قرار دیتے ہوئے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
    ‎پولیس کے مطابق واقعہ جمعرات کی علی الصبح بن قاسم ٹاؤن تھانے کی حدود میں پپری سندھی گوٹھ فٹبال گراؤنڈ کے قریب پیش آیا، جہاں ایک کم عمر لڑکے کی لاش گھر کے باہر پڑی ہوئی ملی۔ اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی اور لاش کو تحویل میں لے کر پہلے گلشن حدید میں واقع الخدمت اسپتال اور بعد ازاں قانونی کارروائی کے لیے جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
    ‎ایس ایچ او بن قاسم ٹاؤن فیصل رفیق کے مطابق متوفی کی شناخت 13 سالہ صابر ولد طالب کے نام سے ہوئی ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق صابر گزشتہ رات اپنے اہل خانہ کے ہمراہ ایک شادی کی تقریب میں شریک ہوا تھا۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ رات گئے اہل خانہ تقریب سے واپس اپنے گھر آ گئے، تاہم صابر واپس نہ پہنچ سکا۔ اہل خانہ نے اسے تلاش کرنے کی کوشش کی، لیکن جمعرات کی صبح اس کی لاش گھر کے باہر سے برآمد ہوئی، جس پر علاقے میں افسوس اور تشویش کی فضا پھیل گئی۔
    ‎حکام کے مطابق فوری طور پر موت کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی، اس لیے واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ پولیس نے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی موت کی اصل وجہ کا تعین کیا جا سکے گا۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ تمام ممکنہ پہلوؤں، بشمول حادثہ، طبعی موت یا کسی مجرمانہ کارروائی، کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اہل خانہ اور علاقے کے افراد کے بیانات بھی قلمبند کیے جا رہے ہیں تاکہ واقعے کی حقیقت سامنے لائی جا سکے۔

  • 
راولپنڈی میں آٹے اور گندم کی اسمگلنگ روکنے کے لیے 9 خصوصی چیک پوسٹیں قائم

    
راولپنڈی میں آٹے اور گندم کی اسمگلنگ روکنے کے لیے 9 خصوصی چیک پوسٹیں قائم

    ‎راولپنڈی: آٹے اور گندم کی اسمگلنگ اور غیر قانونی نقل و حمل کی روک تھام کے لیے محکمہ خوراک نے راولپنڈی ضلع میں سخت اقدامات کرتے ہوئے 9 خصوصی چیک پوسٹیں قائم کر دی ہیں، جہاں چوبیس گھنٹے نگرانی اور سیکیورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں۔
    ‎ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر صالح مغل کی ہدایت پر قائم کی گئی ان چیک پوسٹوں پر محکمہ خوراک کے ساتھ پولیس اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں تاکہ گندم اور آٹے کی غیر قانونی ترسیل کو مؤثر انداز میں روکا جا سکے۔
    ‎پولیس حکام کے مطابق ہر چیک پوسٹ پر 24 گھنٹے سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے 12، 12 گھنٹے پر مشتمل دو شفٹیں مقرر کی گئی ہیں۔ ہر شفٹ کی نگرانی ایک سب انسپکٹر کرے گا، جبکہ اس کے ساتھ ایک اے ایس آئی، تین مسلح اہلکار اور کمیونیکیشن سیٹ بھی موجود ہوگا تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری طور پر نمٹا جا سکے۔
    ‎محکمہ خوراک کی جانب سے قائم کی گئی چیک پوسٹیں پوٹھوہار ڈویژن میں تھانہ صدر واہ کی حدود میں براہمہ باہتڑ موڑ اور سٹی فلور مل، تھانہ ٹیکسلا کی حدود میں پسوال نزد سنگجانی انٹرچینج، گانگو بہادر اور فاروقیہ ٹیکسلا، جبکہ تھانہ ایئرپورٹ کی حدود میں موٹر وے ایم ون انٹرچینج اور فتح جنگ انٹرچینج پر قائم کی گئی ہیں۔
    ‎اس کے علاوہ صدر ڈویژن میں تھانہ کہوٹہ کی حدود میں بیور اور تھانہ کلر سیداں کے علاقے منگال بائی پاس پر بھی خصوصی چیک پوسٹیں فعال کر دی گئی ہیں۔
    ‎محکمہ خوراک کے حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد گندم اور آٹے کی غیر قانونی نقل و حمل کو روکنا، ذخیرہ اندوزی کی حوصلہ شکنی کرنا اور عوام کو مناسب نرخوں پر آٹے کی مسلسل فراہمی یقینی بنانا ہے۔ حکام نے واضح کیا کہ خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • 
الجزائر کے یتیم خانے میں خوفناک آتشزدگی، بچوں سمیت 11 افراد جاں بحق

    
الجزائر کے یتیم خانے میں خوفناک آتشزدگی، بچوں سمیت 11 افراد جاں بحق

    ‎الجزائر: الجزائر کے دارالحکومت کے قریب واقع ایک یتیم خانے میں خوفناک آتشزدگی کے نتیجے میں بچوں سمیت 11 افراد جاں بحق جبکہ 19 افراد زخمی ہو گئے۔ افسوسناک واقعے کے بعد امدادی اداروں نے فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا۔
    ‎برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق آگ اچانک یتیم خانے میں بھڑک اٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے عمارت کے بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ لگنے کے وقت یتیم خانے میں بچے اور عملے کے افراد موجود تھے، جس کے باعث جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔
    ‎واقعے کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ، ریسکیو اہلکار اور مقامی شہری جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ امدادی ٹیموں نے کئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد آگ پر قابو پایا اور متاثرہ افراد کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا۔
    ‎انتظامیہ کے مطابق آتشزدگی کے نتیجے میں 10 افراد شدید جھلس گئے ہیں، جنہیں خصوصی طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ ریسکیو اہلکاروں نے پانچ معذور افراد کو بروقت محفوظ مقام پر منتقل کر کے ان کی جان بچا لی۔
    ‎حکام نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ آگ لگنے کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔ ابتدائی طور پر آتشزدگی کی وجوہات کے بارے میں کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم متعلقہ ادارے تمام شواہد اکٹھے کر رہے ہیں۔
    ‎الجزائر کے صدر عبدالمجید تبون نے اس المناک حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کی ہے۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور متعلقہ حکام کو متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
    ‎اس افسوسناک واقعے نے الجزائر بھر میں غم کی فضا پیدا کر دی ہے، جبکہ شہریوں نے بھی متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والوں کے لیے دعائے مغفرت کی ہے۔

  • 
اسحاق ڈار عالمی مصنوعی ذہانت کانفرنس میں شرکت کے لیے چین پہنچ گئے

    
اسحاق ڈار عالمی مصنوعی ذہانت کانفرنس میں شرکت کے لیے چین پہنچ گئے

    ‎شنگھائی: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار دو روزہ سرکاری دورے پر چین کے شہر شنگھائی پہنچ گئے، جہاں وہ 16 اور 17 جولائی 2026 تک مختلف اہم عالمی سرگرمیوں میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔
    ‎اس دورے کے دوران اسحاق ڈار ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن (WAICO) کے قیام سے متعلق معاہدے کی دستخطی تقریب میں شرکت کریں گے اور پاکستان کی جانب سے بانی رکن کے طور پر اس معاہدے پر دستخط کریں گے۔ یہ اقدام مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎نائب وزیراعظم 17 جولائی کو منعقد ہونے والی 2026 ورلڈ اے آئی کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں بھی شریک ہوں گے، جہاں دنیا بھر سے حکومتی نمائندے، ٹیکنالوجی ماہرین اور صنعت کے رہنما مصنوعی ذہانت کے مستقبل، عالمی تعاون اور نئی ٹیکنالوجیز پر تبادلہ خیال کریں گے۔
    ‎دورے کے دوران اسحاق ڈار مختلف ممالک کے اپنے ہم منصبوں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں پاک چین تعلقات، اقتصادی تعاون، جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، تجارت اور باہمی دلچسپی کے دیگر علاقائی و عالمی امور پر گفتگو متوقع ہے۔
    ‎شنگھائی ایئرپورٹ پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ کا استقبال شنگھائی میونسپل پارٹی کمیٹی کی قائمہ کمیٹی کے رکن اور نائب میئر وو وی نے کیا۔ اس موقع پر چین میں پاکستان کے ناظم الامور اعزاز خان اور شنگھائی میں پاکستان کے قونصل جنرل شہزاد احمد خان بھی موجود تھے۔
    ‎حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان کی بطور بانی رکن ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن میں شمولیت مستقبل میں مصنوعی ذہانت، تحقیق، ڈیجیٹل معیشت اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بین الاقوامی تعاون کے نئے مواقع پیدا کرے گی۔ اس اقدام سے پاکستان کو عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت سے متعلق پالیسی سازی اور مشترکہ منصوبوں میں فعال کردار ادا کرنے کا موقع بھی ملے گا۔

  • 
نیوزی لینڈ میں 6.3 شدت کا زلزلہ، سونامی الرٹ جاری

    
نیوزی لینڈ میں 6.3 شدت کا زلزلہ، سونامی الرٹ جاری

    ‎نیوزی لینڈ کے جنوبی جزیرے میں 6.3 شدت کے طاقتور زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے بعد حکام نے احتیاطی طور پر سونامی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ زلزلے کے باعث متاثرہ علاقوں میں شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ متعلقہ اداروں نے صورتحال پر گہری نظر رکھنا شروع کر دی ہے۔
    ‎میڈیا رپورٹس کے مطابق زلزلے کا مرکز جنوبی جزیرے میں واقع تیناؤ (Te Anau) قصبے کے قریب تھا، جو فیورڈ لینڈ کے معروف سیاحتی علاقے کا داخلی مقام سمجھا جاتا ہے۔ نیوزی لینڈ کی نیشنل ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق زلزلے کا مرکز تیناؤ سے تقریباً 40 کلومیٹر شمال میں واقع تھا۔
    ‎حکام نے ساحلی علاقوں کے رہائشیوں کو محتاط رہنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی تلقین کی ہے۔ سونامی الرٹ جاری ہونے کے بعد ایمرجنسی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔
    ‎امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) اور جرمن ریسرچ سینٹر فار جیو سائنسز (GFZ) نے ابتدائی طور پر زلزلے کی شدت 5.9 ریکارڈ کی تھی، جبکہ اس کی گہرائی 50 کلومیٹر سے زیادہ بتائی گئی۔ بعد ازاں مقامی اداروں نے زلزلے کی شدت 6.3 ریکارڈ کی، جس کے بعد سونامی سے متعلق احتیاطی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے۔
    ‎تاحال کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی اطلاعات موصول نہیں ہوئیں، تاہم متعلقہ ادارے مختلف علاقوں کی صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔ امدادی ٹیمیں بھی الرٹ ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی کی جا سکے۔
    ‎ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ بحرالکاہل کے "رِنگ آف فائر” میں واقع ہے، جہاں زمینی پلیٹوں کی مسلسل حرکت کے باعث زلزلے معمول کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے ملک میں جدید وارننگ سسٹم اور ہنگامی ردعمل کا مؤثر نظام موجود ہے۔
    ‎حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ غیر مصدقہ اطلاعات پر توجہ دینے کے بجائے صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی ہدایات پر عمل کریں اور ساحلی علاقوں میں غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں۔

  • 
روسی تیل کی خریداری پر بھارت پر دباؤ، مودی کی معاشی پالیسیوں پر نئے سوالات

    
روسی تیل کی خریداری پر بھارت پر دباؤ، مودی کی معاشی پالیسیوں پر نئے سوالات

    ‎بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کی معاشی پالیسیوں پر ایک بار پھر تنقید میں اضافہ ہو گیا ہے، جبکہ روسی تیل کی مسلسل خریداری کے معاملے نے نئی دہلی کے لیے سفارتی اور اقتصادی سطح پر ایک نیا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق روس سے تیل درآمد کرنے والے پانچ ممالک پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے سے متعلق ایک مجوزہ بل سامنے آنے کے بعد بھارت پر بین الاقوامی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ اگر یہ بل منظور ہو جاتا ہے تو اس کے بھارت کی تجارت، برآمدات اور مجموعی معیشت پر نمایاں اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روسی توانائی پر انحصار نے بھارت کو ایک پیچیدہ صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ ایک جانب نئی دہلی نسبتاً سستا خام تیل حاصل کرکے اپنی توانائی کی ضروریات پوری کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب ممکنہ تجارتی پابندیوں اور اضافی ٹیرف کے خدشات نے معاشی منصوبہ بندی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔
    ‎معاشی ماہرین کے مطابق اگر مجوزہ 100 فیصد ٹیرف نافذ کیا جاتا ہے تو بھارتی مصنوعات کی عالمی منڈیوں میں مسابقت متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں برآمدات، سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی پر بھی دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔
    ‎ناقدین کا مؤقف ہے کہ مودی حکومت کی بعض اقتصادی پالیسیاں ملک کے طویل المدتی ترقیاتی اہداف کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق "شائننگ انڈیا” اور دنیا کی بڑی معاشی طاقت بننے کا وژن ایسے حالات میں مزید چیلنجز کا سامنا کر سکتا ہے۔
    ‎دوسری جانب بھارتی حکومت کی جانب سے اس معاملے پر یہ مؤقف اختیار کیا جاتا رہا ہے کہ توانائی کی ضروریات اور قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے جا رہے ہیں، جبکہ عالمی صورتحال کے مطابق اپنی اقتصادی حکمت عملی کو بھی مسلسل بہتر بنایا جا رہا ہے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس مجوزہ بل اور عالمی ردعمل کی پیش رفت بھارت کی معیشت اور بین الاقوامی تجارتی تعلقات پر اہم اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

  • وینزویلا میں زلزلوں سے ہلاکتوں کی تعداد 4 ہزار 734 ہوگئی

    وینزویلا میں زلزلوں سے ہلاکتوں کی تعداد 4 ہزار 734 ہوگئی

    ‎وینزویلا میں گزشتہ ماہ آنے والے دو طاقتور زلزلوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 4 ہزار 734 ہو گئی ہے۔ ملک کے اعلیٰ قانون ساز جارج روڈریگیز کی جانب سے جاری تازہ اعداد و شمار کے مطابق ریسکیو اور ملبہ ہٹانے کی کارروائیاں جاری رہنے کے باعث مزید لاشیں ملنے کے بعد اموات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
    ‎حکام کے مطابق 24 جون کو آنے والے دونوں زلزلوں نے ملک کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ ہزاروں عمارتیں متاثر ہوئیں، رہائشی مکانات، کاروباری مراکز اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ متعدد علاقے اب بھی بحالی کے منتظر ہیں۔
    ‎سرکاری اعداد و شمار کے مطابق زخمیوں کی تعداد 16 ہزار 740 پر برقرار ہے، جبکہ 17 ہزار 907 افراد اب بھی بے گھر ہیں اور عارضی پناہ گاہوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو خوراک، صاف پانی، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لیے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، تاہم کئی علاقوں میں رسائی اب بھی مشکل ہے۔
    ‎حکومت نے متاثرہ علاقوں میں بحالی اور تعمیر نو کا عمل تیز کرنے کے لیے قومی اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر کام شروع کر رکھا ہے۔ امدادی ٹیمیں ملبہ ہٹانے، لاپتا افراد کی تلاش، زخمیوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے اور متاثرہ شہریوں کی عارضی رہائش کے انتظامات میں مصروف ہیں۔
    ‎ماہرین ارضیات کے مطابق زلزلوں کے بعد آنے والے آفٹر شاکس نے بھی متاثرہ علاقوں میں خوف و ہراس برقرار رکھا ہے، جس کے باعث کئی عمارتوں کو غیر محفوظ قرار دے کر خالی کرا لیا گیا ہے۔ انجینئرنگ ماہرین عمارتوں کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ مزید حادثات سے بچا جا سکے۔
    ‎بین الاقوامی امدادی اداروں نے وینزویلا کے لیے ہنگامی امداد میں اضافہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بے گھر ہونے والے ہزاروں افراد کو طویل مدت تک رہائش، طبی سہولیات، صاف پانی اور خوراک کی ضرورت رہے گی۔ ماہرین کے مطابق متاثرہ علاقوں کی مکمل بحالی میں کئی ماہ، بلکہ بعض مقامات پر برسوں لگ سکتے ہیں۔
    ‎حکومت نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ آفٹر شاکس کے خدشے کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور صرف محفوظ قرار دی گئی عمارتوں میں ہی رہائش اختیار کریں، جبکہ امدادی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھیں۔

  • 
ریاض میں گیس سلنڈر دھماکا، پانچ پاکستانی جاں بحق

    ‎ریاض: سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے علاقے منفوحہ میں گیس سلنڈر دھماکے کے نتیجے میں پانچ پاکستانی شہری جاں بحق ہو گئے۔ افسوسناک واقعے کے بعد پاکستانی کمیونٹی میں غم کی لہر دوڑ گئی جبکہ متاثرہ خاندانوں میں کہرام مچ گیا۔
    ‎ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق ہونے والے تمام افراد کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ سے تھا۔ جاں بحق افراد کی شناخت محمد سعید، عابد حسین، عبدالرحمان، محمد سفیر اور محمد رستم کے ناموں سے ہوئی ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق دھماکا ایک رہائشی مقام پر گیس سلنڈر پھٹنے سے ہوا، جس کے نتیجے میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔ امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچیں اور آگ پر قابو پانے کے بعد لاشوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
    ‎واقعے کے بعد سعودی حکام نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ دھماکے کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔ ابتدائی طور پر شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حادثہ گیس کے اخراج یا سلنڈر میں فنی خرابی کے باعث پیش آیا، تاہم حتمی رپورٹ آنے کے بعد ہی اصل حقائق سامنے آئیں گے۔
    ‎دوسری جانب پاکستانی سفارتی حکام بھی سعودی حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں اور جاں بحق افراد کی شناخت، قانونی کارروائی اور میتوں کی وطن واپسی کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن سفارتی معاونت فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔
    ‎مقامی پاکستانی برادری نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرحومین کے درجات کی بلندی اور اہل خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔ اہل علاقہ اور عزیز و اقارب بھی اپنے پیاروں کی میتوں کی وطن واپسی کے منتظر ہیں۔

  • 
وزیراعظم شہباز شریف سے عبدالمالک بلوچ کی ملاقات، بلوچستان کی امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال

    
وزیراعظم شہباز شریف سے عبدالمالک بلوچ کی ملاقات، بلوچستان کی امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال

    ‎اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف سے بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ اور رکن بلوچستان اسمبلی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی قیادت میں ایک وفد نے ملاقات کی، جس میں صوبے کی مجموعی امن و امان کی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
    ‎وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران بلوچستان میں امن، استحکام اور ترقی سے متعلق مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر وفاق اور بلوچستان کے درمیان تعاون کو مزید مؤثر بنانے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کوششوں پر بھی گفتگو ہوئی۔
    ‎ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ، سینیٹر جان محمد بلوچ، رکن قومی اسمبلی پولین بلوچ، رکن قومی اسمبلی جمال شاہ کاکڑ اور نیشنل پارٹی پنجاب کے صدر ایوب ملک بھی موجود تھے۔
    ‎شرکا نے بلوچستان کی موجودہ صورتحال، امن و امان کے قیام، سیاسی ہم آہنگی اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق مختلف تجاویز پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات میں اس امر پر زور دیا گیا کہ بلوچستان میں پائیدار امن اور ترقی کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان مشاورت اور تعاون کو مزید فروغ دیا جائے۔
    ‎وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان کی ترقی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے وفاقی حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت صوبے میں امن، خوشحالی اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔ وفد نے بھی بلوچستان کے عوام کے مفاد میں تعاون اور مثبت سیاسی رابطوں کو جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

  • کانگو میں ایبولا وائرس تیزی سے پھیلنے لگا، متاثرہ افراد کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز

    کانگو میں ایبولا وائرس تیزی سے پھیلنے لگا، متاثرہ افراد کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز

    ‎جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے اور حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اب تک 2 ہزار 11 افراد میں اس بیماری کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ 754 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ وائرس کے پھیلاؤ کی رفتار اس پر قابو پانے کی کوششوں سے زیادہ ہے، جس کے باعث صورتحال مزید تشویشناک بنتی جا رہی ہے۔
    ‎بین الاقوامی طبی تنظیم میڈیسنز سانز فرنٹیئرز (ایم ایس ایف) نے خبردار کیا ہے کہ گزشتہ پانچ ہفتوں کے دوران ایبولا کے مریضوں کی تعداد تقریباً تین گنا بڑھ چکی ہے، جس کے باعث یہ دنیا کی تاریخ میں ایبولا کی تیسری بڑی اور تیزی سے پھیلنے والی وباؤں میں شامل ہو گئی ہے۔
    ‎وبا کے مرکز بننے والے شہر بونیا کے جنرل اسپتال میں طبی عملے نے بھی تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف ہڑتال کر دی ہے۔ ڈاکٹرز، نرسوں اور دیگر فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز نے اسپتال کے داخلی راستے بند کر دیے اور مؤقف اختیار کیا کہ انتہائی خطرناک حالات میں خدمات انجام دینے کے باوجود انہیں بروقت معاوضہ نہیں دیا جا رہا۔
    ‎طبی ماہرین کے مطابق ایبولا ایک مہلک وائرل بیماری ہے جو متاثرہ انسان یا جانور کے جسمانی رطوبتوں سے براہ راست رابطے کے ذریعے منتقل ہوتی ہے۔ اس بیماری میں تیز بخار، شدید کمزوری، قے، جسم کے اندرونی اور بیرونی حصوں سے خون بہنا اور دیگر سنگین علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں اس بیماری سے اموات کی شرح بہت زیادہ ہوتی ہے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق موجودہ وبا نایاب بُنڈی بگیو (Bundibugyo) وائرس سے پھیل رہی ہے۔ اس وائرس کے لیے اب تک نہ تو کوئی منظور شدہ ویکسین دستیاب ہے اور نہ ہی مؤثر علاج، جبکہ ایبولا کی زیادہ عام قسم زائیر وائرس کے لیے ویکسین اور علاج موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صحت کے شعبے سے وابستہ اداروں کو اس وبا پر قابو پانے میں غیر معمولی مشکلات کا سامنا ہے۔
    ‎عالمی ادارہ صحت اور امدادی تنظیمیں مقامی حکومت کے ساتھ مل کر مریضوں کی شناخت، قرنطینہ، آگاہی مہم اور طبی سہولیات کی فراہمی پر کام کر رہی ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر وسائل اور طبی امداد میں فوری اضافہ نہ کیا گیا تو وبا مزید علاقوں میں پھیل سکتی ہے اور انسانی جانوں کا نقصان بڑھنے کا خدشہ ہے۔