پشاور: پشاور ہائیکورٹ میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے دو انسپکٹرز کے خلاف ایک درخواست دائر کی گئی ہے، جس میں انہیں ایک شہری کو مبینہ طور پر غیر قانونی حراست میں رکھنے، تشدد کا نشانہ بنانے اور بھاری رقم بطور بھتہ طلب کرنے کے الزامات کا سامنا ہے۔
درخواست محمد سہیل خان کی جانب سے اپنے وکیل شاہد محمود ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر کی گئی، جس میں وزارت داخلہ، این سی سی آئی اے، انسپکٹر احمد جان اور انسپکٹر نعمان کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ پیشے کے اعتبار سے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں اور تعمیراتی شعبے سے وابستہ ہیں۔ ان کے مطابق 2 جولائی کو پشاور کے ایک نجی ریسٹورنٹ سے دونوں انسپکٹرز نے بغیر کسی وارنٹ اور قانونی جواز کے انہیں حراست میں لیا اور بعد ازاں این سی سی آئی اے کے دفتر منتقل کر دیا۔
درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ دفتر میں انہیں جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور مختلف طریقوں سے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ مزید دعویٰ کیا گیا کہ متعلقہ افسران نے رہائی کے بدلے 2 کروڑ 50 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا۔
درخواست گزار کے مطابق ان کی جیب سے 52 لاکھ روپے نقد رقم اور موبائل فون بھی مبینہ طور پر لے لیا گیا، جبکہ تشدد کے دوران ایک اقرار نامے پر زبردستی انگوٹھے کے نشانات بھی ثبت کرائے گئے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور درخواست گزار کو قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔
تاحال این سی سی آئی اے یا دیگر متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔
این سی سی آئی اے کے دو انسپکٹرز پر غیر قانونی حراست اور بھتہ طلبی کا الزام، پشاور ہائیکورٹ سے رجوع
