میرپورخاص میں 18 سالہ لڑکی کی پراسرار موت نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ پولیس نے گھر سے لڑکی کی لاش برآمد ہونے کے بعد پوسٹ مارٹم کرانے میں مزاحمت پر دو بھائیوں اور چار ماموؤں سمیت چھ افراد کو حراست میں لے لیا، جبکہ قانونی کارروائی کے تحت پولیس کی نگرانی میں لاش کا پوسٹ مارٹم بھی مکمل کروا لیا گیا۔
پولیس کے مطابق واقعہ میرپورخاص کے علاقے کریم ٹاؤن میں پیش آیا، جہاں اہلِ محلہ کی اطلاع پر پولیس رات گئے موقع پر پہنچی اور گھر سے نوجوان لڑکی کی لاش اپنی تحویل میں لے لی۔ ابتدائی تحقیقات کے دوران اہل خانہ نے لاش کا پوسٹ مارٹم کرانے سے انکار کیا اور پولیس کارروائی میں مزاحمت بھی کی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مزاحمت اور تفتیش میں مداخلت پر لڑکی کے دو بھائیوں اور چار ماموؤں کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ شروع کر دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق قانون کے مطابق موت کی وجوہات جاننے کے لیے پوسٹ مارٹم ضروری تھا، جسے پولیس کی نگرانی میں مکمل کرایا گیا۔
ابتدائی معائنے کے دوران لڑکی کے جسم پر مبینہ تشدد کے نشانات بھی پائے گئے ہیں، جس کے بعد واقعے کی حساس نوعیت کے پیش نظر تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اصل حقائق پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آنے کے بعد واضح ہوں گے۔
ایس ایس پی میرپورخاص کی ہدایت پر چار رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے، جو مختلف پہلوؤں سے واقعے کی چھان بین کر رہی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ اگر تحقیقات اور میڈیکل رپورٹ میں کسی جرم کے شواہد سامنے آئے تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق مقدمہ درج کر کے مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
میرپورخاص میں 18 سالہ لڑکی کی پراسرار موت
