Baaghi TV


حکومت کا روایتی سرنجز پر مکمل پابندی کا فیصلہ، صرف آٹو ڈس ایبل سرنجز استعمال ہوں گی

health

‎وفاقی حکومت نے ملک بھر میں روایتی (مینول) سرنجز کے استعمال کو مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد سرنجز کے دوبارہ استعمال سے پھیلنے والی خطرناک بیماریوں کی روک تھام اور مریضوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
‎ذرائع کے مطابق ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے اس حوالے سے تمام ضروری ورکنگ مکمل کر لی ہے۔ نئے فیصلے کے تحت ایک سے 10 سی سی تک کی تمام روایتی سرنجز کی درآمد، مقامی تیاری، فروخت اور استعمال پر پابندی عائد کی جائے گی۔
‎ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے یکم جولائی کو جاری کیا گیا سابقہ نوٹیفکیشن بھی واپس لیا جائے گا۔ اس نوٹیفکیشن کے تحت صرف 3 اور 10 سی سی کی روایتی سرنجز پر پابندی لگائی گئی تھی، تاہم اب پابندی کا دائرہ تمام مینول سرنجز تک بڑھا دیا گیا ہے۔
‎حکام کے مطابق اس فیصلے سے قبل سرنج بنانے والی صنعت، طبی ماہرین، اسپتالوں اور دیگر متعلقہ فریقوں سے طویل مشاورت کی گئی۔ اگرچہ تمام اسٹیک ہولڈرز اس معاملے پر مکمل طور پر متفق نہیں تھے، تاہم عوامی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
‎ذرائع نے بتایا کہ پہلے بعض مخصوص سرکاری اور نجی اسپتالوں کو 10 سی سی روایتی سرنج استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی، لیکن اب یہ استثنا بھی ختم کیا جا رہا ہے۔ تاہم انسولین سرنجز اس فیصلے سے مستثنیٰ رہیں گی اور ان پر پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا۔
‎طبی ماہرین کے مطابق روایتی سرنجز کے دوبارہ استعمال سے ایڈز، ہیپاٹائٹس بی، ہیپاٹائٹس سی اور دیگر خون کے ذریعے منتقل ہونے والی بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ پابندی کے بعد آٹو ڈس ایبل سرنجز کے استعمال کو فروغ دیا جائے گا، جو ایک بار استعمال ہونے کے بعد دوبارہ استعمال کے قابل نہیں رہتیں۔
‎ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ وزیر اعظم کی ہدایت پر کیا گیا ہے، جبکہ ڈریپ کے میڈیکل ڈیوائسز بورڈ نے بھی روایتی سرنجز پر مکمل پابندی کی منظوری دے دی ہے۔ حکومت کو امید ہے کہ اس اقدام سے طبی شعبے میں انفیکشن کے خطرات کم ہوں گے اور مریضوں کی حفاظت کو مزید مؤثر بنایا جا سکے گا۔

More posts