مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث خطے کی صورتحال بدستور غیر یقینی کا شکار ہے، جبکہ مختلف ممالک کی جانب سے بیانات، جوابی اقدامات اور سفارتی رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔
سعودی عرب، عمان، کویت اور لبنان نے ایران کی جانب سے خطے کے ممالک کو نشانہ بنانے کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو خطے میں مزید عدم استحکام کا سبب بن سکتے ہیں۔
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مفاہمتی یادداشت کی روح کے مطابق تمام فریق کشیدگی میں کمی لانے، تحمل کا راستہ اختیار کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی جانب بڑھیں تاکہ خطے میں امن برقرار رکھا جا سکے۔
ادھر ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ عمان میں امریکی طیارہ بردار جہازوں کے لاجسٹک سپورٹ مراکز اور قطر میں واقع العدید ایئر بیس کو نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب امریکی حکام کی جانب سے ان دعوؤں پر باضابطہ مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ یکطرفہ معاہدوں کا دور ختم ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو کسی بھی معاہدے کی تمام شقوں پر مکمل عمل درآمد کرنا ہوگا، بصورت دیگر اعتماد کی فضا قائم نہیں ہو سکے گی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے تیسرے مرحلے میں 140 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اردن میں پرنس حسن ایئر بیس پر قائم کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو نشانہ بنایا ہے، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ اس کا فضائی دفاعی نظام ایران کی جانب سے آنے والے میزائلوں کو روکنے کے لیے متحرک ہے، جبکہ امریکی حملوں کے کچھ ہی دیر بعد بحرین اور قطر میں دھماکوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جن کے بعد خطے میں سکیورٹی الرٹ مزید سخت کر دیا گیا۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ لبنان سے نقل مکانی کرنے والے تقریباً دو لاکھ افراد کی جلد واپسی ممکن نہیں ہوگی، جبکہ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے مفاہمتی یادداشت کے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل نہ کیا تو وہ بھی اس معاہدے پر عمل درآمد جاری نہیں رکھے گا۔
سعودی عرب، عمان، کویت اور لبنان کی ایرانی حملوں کی سخت مذمت
