Baaghi TV


آڈیٹر جنرل کی ڈی جی پی سی میں سائبر سکیورٹی خامیوں کی نشاندہی

‎آڈیٹر جنرل پاکستان نے ڈائریکٹوریٹ جنرل پٹرولیم کنسیشنز (ڈی جی پی سی) میں سائبر سکیورٹی اور حساس معلومات کے تحفظ کے حوالے سے سنگین خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے فوری اصلاحی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
‎آڈٹ رپورٹ کے مطابق تیل اور گیس کی تلاش کے لائسنس جاری کرنے والے ادارے میں ڈیٹا سکیورٹی سے متعلق بنیادی پالیسیوں کا فقدان پایا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رسائی کے ضوابط، ڈیٹا انکرپشن اور معلومات کے محفوظ انتظام کے مؤثر نظام موجود نہ ہونے کے باعث اہم اور حساس ریکارڈ سائبر حملوں کے خطرات سے دوچار ہو سکتا ہے۔
‎رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ ادارے میں ملٹی فیکٹر آتھنٹیکیشن، خودکار نگرانی کے نظام اور مؤثر لاگ مینجمنٹ جیسی جدید حفاظتی سہولتیں موجود نہیں، جس کی وجہ سے ممکنہ سائبر حملوں یا غیر مجاز رسائی کا بروقت پتا لگانا مشکل ہو سکتا ہے۔
‎آڈیٹ میں مالیاتی ریکارڈ کو بروقت اپ ڈیٹ نہ کرنے، لائسنس یافتہ کمپنیوں کے ڈیٹا کی ناکافی نگرانی اور تکنیکی معلومات کے تحفظ میں کمزوریوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق دو جہتی (2D) اور سہ جہتی (3D) سیسمک سروے سے متعلق اہم تکنیکی معلومات کے مؤثر انتظام اور نگرانی کا نظام بھی مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتا۔
‎آڈیٹر جنرل نے سفارش کی ہے کہ ڈی جی پی سی میں جدید سائبر سکیورٹی نظام نافذ کیا جائے، ڈیٹا انکرپشن کو لازمی بنایا جائے، رسائی کے انتظام کو مزید سخت کیا جائے اور معلومات کے تحفظ کے لیے جامع گورننس فریم ورک تشکیل دیا جائے تاکہ قومی اہمیت کے حساس ڈیٹا کو مستقبل کے سائبر خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
‎ماہرین کے مطابق توانائی کے شعبے سے متعلق معلومات قومی معیشت اور سلامتی کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہیں، اس لیے ایسے اداروں میں بین الاقوامی معیار کے سائبر سکیورٹی اقدامات اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

More posts