امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو کے سربراہی اجلاس کے لیے انقرہ پہنچنے کے بعد اتحاد کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نیٹو سے "بہت زیادہ مایوس” ہیں۔
ترک صدر رجب طیب ایردوان کے ساتھ ملاقات کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ نیٹو کے رکن ممالک کی جانب سے دفاعی اخراجات میں پیش رفت کے بارے میں ابھی دیکھنا ہوگا کہ کیا نتائج سامنے آتے ہیں۔
انہوں نے کہا، "میں نیٹو سے بہت مایوس تھا۔ سچ کہوں تو اگر یہ اجلاس ترکیہ میں نہ ہوتا، جہاں میرے دوست ایک مضبوط رہنما ہیں، تو ممکن ہے کہ میں اس میں شرکت ہی نہ کرتا۔”
صدر ٹرمپ نے ترکیہ کی میزبانی کو سراہتے ہوئے کہا کہ نیٹو کا اجلاس ترکیہ میں منعقد ہونا ایک اہم پیش رفت ہے اور اس کی خاص اہمیت ہے۔
انہوں نے ایران سے متعلق حالیہ امریکی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ "ہمیں اس معاملے میں اچھا برتاؤ نہیں ملا کیونکہ ہم نے ایران میں کارروائی کی۔”
ٹرمپ نے مزید کہا، "ہمیں کسی کی مدد کی ضرورت نہیں، بلکہ میں نے تو کسی کی مدد چاہی ہی نہیں۔”
صدر ٹرمپ کے ان ریمارکس کو نیٹو اتحاد کے اندر دفاعی اخراجات، رکن ممالک کے کردار اور حالیہ علاقائی تنازعات پر جاری اختلافات کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

میں نیٹو سے مایوس : ترکیہ کی وجہ سے اجلاس میں شامل ہوں۔ ٹرمپ
-

لاہور میں 766 غیر رجسٹرڈ نجی تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ
لاہور: کاہنہ میں اسکول کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے کے بعد محکمہ تعلیم نے بچوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کا آغاز کرتے ہوئے لاہور بھر کے 766 غیر رجسٹرڈ نجی تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ان اداروں میں بڑی تعداد ٹیوشن سینٹرز اور پرائمری اسکولوں کی ہے، جو بغیر رجسٹریشن اور مطلوبہ حفاظتی انتظامات کے کام کر رہے ہیں۔
محکمہ تعلیم کے ذرائع کے مطابق ضلع لاہور میں سیکڑوں نجی تعلیمی ادارے قانونی تقاضے پورے کیے بغیر سرگرم ہیں، جس کے باعث طلبہ کی حفاظت سے متعلق سنگین خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔ حالیہ حادثے کے بعد ان اداروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔
اس مقصد کے لیے محکمہ تعلیم نے نجی تعلیمی اداروں کی عمارتوں، حفاظتی انتظامات اور بنیادی سہولیات کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی میں ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر، مختلف زونل افسران، پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن یا متعلقہ رجسٹریشن اتھارٹی (پیرا) کے نمائندے اور پلاننگ ڈیپارٹمنٹ کے انسپکٹرز شامل ہوں گے۔ یہ ٹیم لاہور کے تمام نجی تعلیمی اداروں کا دورہ کر کے عمارتوں کی مضبوطی، حفاظتی اقدامات، ایمرجنسی انتظامات اور دیگر بنیادی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لے گی۔
محکمہ تعلیم نے کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ پانچ روز کے اندر اپنی جامع رپورٹ پیش کرے، تاکہ اس کی روشنی میں فوری فیصلے کیے جا سکیں۔
حکام کے مطابق وہ تعلیمی ادارے جو قانونی تقاضے، حفاظتی معیارات یا عمارت کی فٹنس سے متعلق سرٹیفکیٹ فراہم نہیں کر سکیں گے، انہیں فوری طور پر سیل کر دیا جائے گا۔ ایسے اداروں کے مالکان کے خلاف قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔ -

پنجاب پولیس میں بڑے پیمانے پر تبادلے، 15 اعلیٰ افسران نئی ذمہ داریوں پر تعینات
لاہور: پنجاب پولیس میں بڑے پیمانے پر انتظامی ردوبدل کرتے ہوئے 15 سینئر پولیس افسران کے تبادلوں اور نئی تعیناتیوں کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب کی منظوری کے بعد سینٹرل پولیس آفس کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق ان تبادلوں کا مقصد صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانا، پولیس کی انتظامی کارکردگی میں بہتری لانا اور فیلڈ آپریشنز کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔
نوٹیفکیشن کے تحت محمد سرفراز ورک کو اے آئی جی آپریشنز سی پی او لاہور تعینات کیا گیا ہے، جبکہ زاہد نواز کو اس عہدے سے تبدیل کر کے ایس ایس پی پولیس اسکول آف انٹیلی جنس لاہور تعینات کر دیا گیا ہے۔
جہانداد اکرم کو ایس پی سی سی ڈی تھری لاہور سے تبدیل کر کے ایس پی سی سی ڈی ڈی جی خان ریجن تعینات کیا گیا ہے، جبکہ عادل عامر کو ڈی جی خان ریجن سے تبدیل کر کے سی پی او لاہور رپورٹ کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
سعد عفیدی کو ایس پی انویسٹی گیشن ننکانہ صاحب مقرر کیا گیا ہے، جبکہ شوکت علی شیخ کو وہاں سے تبدیل کر کے ایڈیشنل ڈائریکٹر سینٹرل ون، اسپیشل پروٹیکشن یونٹ لاہور تعینات کر دیا گیا ہے۔
محمد نعمان ظفر کو ایڈیشنل ایس پی صدر ڈویژن ملتان، محمد منیر بدر کو ایس پی انویسٹی گیشن لودھراں اور ظفر جاوید ملک کو ایس پی آپریشنز ڈی آئی سی تھری اوکاڑہ تعینات کیا گیا ہے۔
رضا اللہ خان کو اٹک و حسن ابدال سے تبدیل کر کے ایس پی آپریشنز ڈی آئی سی تھری جھنگ مقرر کیا گیا ہے۔ انہیں اپنے موجودہ فرائض کے ساتھ ساتھ ایس ایس پی آپریشنز آئی سی تھری فیصل آباد ریجن کا اضافی چارج بھی سونپا گیا ہے۔
مزید تبادلوں کے تحت محمد عیسیٰ خان کو ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن ایلیٹ پولیس فورس لاہور تعینات کیا گیا، جبکہ حسن افضل کو اس عہدے سے تبدیل کر کے سی پی او رپورٹ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
اسی طرح حسن رضا کو ایس ایس پی آر آئی بی ملتان ریجن، فرخ جاوید کو ایس پی انویسٹی گیشن بہاولپور اور سید جمشید علی کو بٹالین کمانڈر تھری پی سی ملتان تعینات کیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق تمام افسران کو فوری طور پر اپنے نئے عہدوں کا چارج سنبھالنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ تبادلے پولیس کے انتظامی ڈھانچے کو مزید مؤثر بنانے اور عوام کو بہتر سیکیورٹی اور پولیسنگ کی سہولت فراہم کرنے کے لیے کیے گئے ہیں۔ -

ٹک ٹاک کی 2026 کی پہلی سہ ماہی کی کمیونٹی گائیڈ لائنز پر عمل درآمد رپورٹ جاری
پاکستان، 07 جولائی، 2026: ٹک ٹاک (TikTok)نے 2026 کی پہلی سہ ماہی کی اپنی کمیونٹی گائیڈ لائنز پر عمل درآمد رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں عالمی صارفین کے لیے محفوظ اور خوش آئند ماحول برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔ جنوری سے مارچ 2026 کے عرصے پر مشتمل اس رپورٹ میں اس بات کو اجاگر کیا گیا ہے کہ پلیٹ فارم نے کمیونٹی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی کرنے والے مواد کی پیشگی نشاندہی اور بروقت حذف کرنے کی اپنی کوششیں بدستور جاری رکھیں، تاکہ دنیا بھر کے صارفین کو زیادہ محفوظ تجربہ فراہم کیا جا سکے۔
ٹک ٹاک نے 2026 کی پہلی سہ ماہی کے دوران پاکستان میں اپنی کمیونٹی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی پر مشتمل 22,535,523 ویڈیوز حذف کیں، جو اس عرصے کے دوران پوسٹ کی گئی مجموعی ویڈیوز کا 0.8 فیصد تھیں۔ ان میں سے 99.6 فیصد ویڈیوز کی پیشگی بنیادوں پر نشاندہی کر کے انہیں حذف کر دیا گیا، جبکہ 95.5 فیصد ویڈیوز کو پوسٹ کیے جانے کے 24 گھنٹوں کے اندر پلیٹ فارم سے ہٹا دیا گیا۔ مزید جائزے کے بعد 690,557 ویڈیوز کو بحال بھی کر دیا گیا۔
عالمی سطح پر ٹک ٹاک نے سہ ماہی کے دوران 184 ملین (184,012,576) ویڈیوز حذف کیں، جو پلیٹ فارم پر اپ لوڈ کیے گئے مجموعی کنٹنٹ کا تقریباً 0.5 فیصد بنتا ہے۔ ان میں سے 178,014,154 ویڈیوز کی نشاندہی خودکار نظام کے ذریعے کی گئی اور انہیں حذف کر دیا گیا، جبکہ مزید جائزے کے بعد 8,838,710 ویڈیوز کو بحال کر دیا گیا۔ پلیٹ فارم نے 99.3 فیصد کی پیشگی بنیادوں پر کنٹنٹ ہٹانے کی شرح برقرار رکھی، جبکہ خلاف ورزی پر مبنی 94.4 فیصد کنٹنٹ کو اپ لوڈ کیے جانے کے 24 گھنٹوں کے اندر حذف کر دیا گیا
پلیٹ فارم کی شفافیت اور سالمیت کو برقرار رکھنے کی مسلسل کوششوں کے تحت ٹک ٹاک نے رپورٹنگ کے عرصے کے دوران 86,288,705جعلی اکاؤنٹس بھی حذف کیے جبکہ مزید 25,764,372 ایسے اکاؤنٹس کو بھی حذف کیا جن کے بارے میں شبہ تھا کہ وہ 13 سال سے کم عمر صارفین سے تعلق رکھتے ہیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ حذف کی گئی ویڈیوز میں سے 18.6 فیصد میں ایسے حساس یا بالغ نوعیت کے موضوعات شامل تھے جوٹک ٹاک کی کنٹنٹ کے بارے پالیسیوں سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ اسی دوران 12.6 فیصد ویڈیوز پلیٹ فارم کے تحفظ اور شائستگی سے متعلق پالیسیوں کی خلاف ورزی پر حذف کی گئیں، 1.اسی طرح 16.5 فیصد ویڈیوز خطرناک سرگرمیوں اور چیلنجز پر مشتمل تھیں، جبکہ 12.9 فیصد میں جسمانی نمائش اور جنسی نوعیت کے رویے شامل تھے۔ علاوہ ازیں، 2.1 فیصد ویڈیوز کو ترمیم شدہ میڈیا یا مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ کنٹنٹ کے طور پر نشان زد کیا گیا۔
کمیونٹی گائیڈ لائنز پر عمل درآمد کی سہ ماہی رپورٹ کا اجرا ٹک ٹاک کے شفافیت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے، جس کے ذریعے پلیٹ فارم پر کنٹنٹ کی نگرانی، جائزے اور پالیسیوں کے نفاذ سے متعلق اقدامات کے حجم اور نوعیت کے بارے میں معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔2026 کی پہلی سہ ماہی کی کمیونٹی گائیڈ لائنز پر عمل درآمد رپورٹ،ٹک ٹاک کی کمیونٹی گائیڈ لائنز، حفاظتی ٹولز اور پالیسیوں کے بارے میں مزید معلومات ٹک ٹاک ٹرانسپیرنسی سینٹر پر ملاحظہ کیجیے جو انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں دستیاب ہے۔ -

ایڈنبرا میں بیوی پر قاتلانہ حملہ، شوہر نے عدالت میں جرم قبول کر لیا
برطانیہ کے شہر ایڈنبرا میں علیحدگی اختیار کرنے والی بیوی پر چاقو سے قاتلانہ حملہ کرنے والے شخص نے عدالت میں اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔
26 سالہ اوسارینکھو اٹیوٹی نے 11 نومبر 2025 کو ایڈنبرا کے علاقے لیتھ کی ڈیوک اسٹریٹ پر اپنی اہلیہ وکٹری اٹیوٹی پر اس وقت حملہ کیا جب وہ اپنی کمسن بیٹی کو بے بی بگی میں بٹھا کر ڈاکٹر کے پاس جا رہی تھیں۔
عدالتی کارروائی کے مطابق ملزم نے خاتون پر سر اور جسم کے مختلف حصوں پر بار بار چاقو سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں انہیں مجموعی طور پر 12 شدید زخم آئے۔ حملے کے باعث ان کے چہرے پر مستقل نشانات پڑ گئے جبکہ ان کا ایک پھیپھڑا بھی متاثر ہوا۔
ایڈنبرا کی ہائی کورٹ کو بتایا گیا کہ حملہ اس وقت رکا جب تین راہگیروں نے فوری مداخلت کرتے ہوئے خاتون کو بچایا اور ملزم کو قابو کر لیا، جس کے بعد پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔
عدالت میں سماعت کے دوران ملزم نے اقدامِ قتل کے الزام کا اعتراف کر لیا۔ استغاثہ کے مطابق حملے کے دوران وہ خاتون کو مسلسل دھمکیاں دیتا رہا، انہیں اپنے ساتھ چلنے کا حکم دیا، زمین پر گرا کر ان کا سر پکڑا اور بار بار چاقو کے وار کیے، جس سے ان کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہو گیا۔
سماعت کے دوران جج لارڈ کیوبی نے ملزم سے کہا کہ یہ نہایت سنگین جرم ہے، جس کے متاثرہ خاتون کی زندگی پر دیرپا اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خاتون کو شدید جسمانی چوٹیں آئیں، چہرے پر مستقل داغ رہ گئے اور وہ گہرے ذہنی صدمے سے بھی دوچار ہوئیں۔
عدالت کی جانب سے ملزم کو بعد کی سماعت میں سزا سنائی جائے گی۔ -

موناکو بم حملے کی مرکزی ملزمہ یوکرین میں مردہ پائی گئی، دو افراد گرفتار
موناکو میں یوکرینی کاروباری شخصیت پر ہونے والے بم حملے کی مرکزی مشتبہ ملزمہ یوکرین میں مردہ پائی گئی، جس کے بعد یوکرینی حکام نے قتل کے الزام میں دو افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
انٹرپول نے اس سے قبل 39 سالہ اناستاسیا بیریزووسکا کو بم حملے کی مشتبہ ملزمہ قرار دیا تھا۔ وہ یوکرین میں پیدا ہوئی تھیں اور حالیہ عرصے میں جرمنی میں مقیم تھیں۔
یوکرینی پولیس اور پراسیکیوٹر آفس کے مطابق بیریزووسکا کی لاش سر میں گولیوں کے زخموں کے ساتھ برآمد ہوئی، جبکہ جائے وقوعہ سے پستول کے خول بھی ملے ہیں، جس سے واقعے کو قتل قرار دیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق قتل کے الزام میں دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جن پر پیشگی منصوبہ بندی کے تحت واردات انجام دینے کا شبہ ہے۔
پولیس نے بتایا کہ گرفتار ملزمان میں سے ایک یوکرین کی وزارتِ دفاع کے مرکزی انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کا حاضر سروس اہلکار ہے، جس نے دورانِ تفتیش بیریزووسکا کے قتل کا اعتراف کر لیا ہے۔
حکام کے مطابق اس ملزم نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ دوسرا گرفتار شخص، جو سابق قانون نافذ کرنے والے ادارے کا اہلکار ہے، اس قتل میں اس کا ساتھی تھا۔
یوکرینی تفتیشی ادارے واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اس قتل کا تعلق موناکو بم حملے سے ہے یا اس کے پس پردہ کوئی اور محرکات کارفرما تھے۔ -

دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات نہیں ہوں گے، ایران کا امریکا کو دوٹوک جواب
تہران: ایران نے امریکا کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ دھمکیوں کے ماحول میں کسی حتمی معاہدے پر مذاکرات کا آغاز ممکن نہیں۔ یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ دھمکی آمیز گفتگو کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہوا تو امریکا "اپنا کام مکمل کرے گا”۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں امریکی صدر کے ریمارکس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر دھمکیوں کا سلسلہ جاری رہا تو حتمی معاہدے سے متعلق مذاکرات شروع نہیں کیے جائیں گے۔
عباس عراقچی نے اپنے پیغام میں امریکا پر زور دیا کہ وہ اپنے کیے گئے وعدوں کا احترام کرے۔ انہوں نے لکھا، "اگر دھمکیاں جاری رہیں تو حتمی معاہدے پر مذاکرات شروع نہیں ہوں گے، اپنے دستخط کی پاسداری کریں۔”
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران کا مؤقف گزشتہ ماہ طے پانے والی ایران امریکا مفاہمتی یادداشت کے آرٹیکل 13 کے مطابق ہے، جس میں فریقین کے درمیان باہمی احترام اور طے شدہ اصولوں کی پاسداری پر زور دیا گیا تھا۔ -

اسحاق ڈار کی زیرصدارت اہم اجلاس، پاکستان کی کثیرالجہتی سفارت کاری کا جائزہ
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کی زیرصدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستان کی مختلف کثیرالجہتی سفارتی اقدامات اور عالمی فورمز میں جاری سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران نائب وزیراعظم کو آئندہ ہونے والی اہم بین الاقوامی تقریبات اور اعلیٰ سطحی اجلاسوں کی تیاریوں سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ حکام نے مختلف عالمی فورمز میں پاکستان کی شرکت، سفارتی ترجیحات اور جاری انتظامات کے بارے میں آگاہ کیا۔
اسحاق ڈار نے اس موقع پر پاکستان کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک عالمی سطح پر کثیرالجہتی تعاون کو فروغ دینے کے لیے اپنا فعال کردار جاری رکھے گا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مختلف بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کے اصولی مؤقف کو مؤثر انداز میں پیش کرنے کے لیے تمام تیاریاں بروقت مکمل کی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی موجودگی کو مزید مضبوط بنانے، بین الاقوامی تعاون کے فروغ اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے مربوط حکمت عملی اختیار کی جائے۔
اجلاس میں سیکرٹری خارجہ سفیر آمنہ بلوچ، اسپیشل سیکرٹری (اقوام متحدہ)، ایڈیشنل سیکرٹری (ایشیا پیسیفک) سمیت وزارت خارجہ کے دیگر سینئر حکام نے شرکت کی اور مختلف سفارتی معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔
اجلاس میں آئندہ بین الاقوامی مصروفیات، پاکستان کی سفارتی ترجیحات اور مختلف عالمی پلیٹ فارمز پر مؤثر نمائندگی سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔ -

موہن جو دڑو کے نوادرات اسمگل کرنے کا منصوبہ ناکام، بین الصوبائی اسمگلر گرفتار
جیکب آباد: سندھ کے ہزاروں سال قدیم عالمی ثقافتی ورثے موہن جو دڑو سے تاریخی نوادرات چوری کرکے بیرونِ ملک اسمگل کرنے کا مبینہ منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔ جیکب آباد میں پولیس اور وفاقی حساس ادارے نے مشترکہ انٹیلی جنس آپریشن کے دوران ایک بین الصوبائی اسمگلر کو گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق یہ کارروائی کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (سی آئی اے)، شاہین فورس، آئی ٹی برانچ اور وفاقی حساس ادارے کی مشترکہ کوششوں سے عمل میں آئی۔ گرفتار ملزم کی شناخت سید لال شاہ کے نام سے ہوئی ہے، جس پر قیمتی تاریخی نوادرات کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم نے اہم انکشافات کیے۔ اس نے اعتراف کیا کہ وہ موہن جو دڑو سے نایاب اور قیمتی نوادرات چوری کرنے کی منصوبہ بندی کر چکا تھا اور اس مقصد کے لیے عملی اقدامات بھی کیے جا رہے تھے۔
تفتیش کے مطابق چوری کیے جانے والے نوادرات کو سندھ سے بلوچستان کے راستے بیرونِ ملک اسمگل کرنے کا مکمل نیٹ ورک تیار کیا جا رہا تھا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ بروقت کارروائی کے باعث ملک کے قیمتی تاریخی ورثے کو نقصان پہنچنے سے بچا لیا گیا۔
پولیس نے بتایا کہ ملزم کے قبضے سے بھاری مقدار میں غیر قانونی اسلحہ، اہم دستاویزات اور ایسے شواہد بھی برآمد ہوئے ہیں جو اسمگلنگ کے ایک منظم نیٹ ورک کی نشاندہی کرتے ہیں۔ برآمد ہونے والے شواہد کی مدد سے دیگر ملوث افراد، سہولت کاروں اور ممکنہ خریداروں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
حکام کے مطابق اس نیٹ ورک کے دیگر ارکان کی گرفتاری کے لیے سندھ، بلوچستان اور سرحدی علاقوں میں چھاپہ مار کارروائیاں مزید تیز کر دی گئی ہیں۔ سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کو نقصان پہنچانے یا بیرونِ ملک اسمگل کرنے کی کسی بھی کوشش کو ہر صورت ناکام بنایا جائے گا۔
ماہرین آثارِ قدیمہ کے مطابق موہن جو دڑو دنیا کے قدیم ترین شہری مراکز میں شمار ہوتا ہے اور اس سے وابستہ نوادرات نہ صرف پاکستان بلکہ پوری انسانیت کا مشترکہ ثقافتی سرمایہ ہیں۔ ایسے تاریخی اثاثوں کا تحفظ قومی ذمہ داری ہے اور ان کی غیر قانونی خرید و فروخت یا اسمگلنگ کے خلاف سخت کارروائی ناگزیر ہے۔ -

ٹرمپ کی اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی سے متعلق متنازع پوسٹ، سوشل میڈیا پر ہنگامہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی سے متعلق ایک متنازع سوشل میڈیا پوسٹ نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ پوسٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں رہنما ترکی میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے موجود ہیں، جس کے باعث سفارتی حلقوں میں بھی اس معاملے پر خاصی توجہ دی جا رہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک ترمیم شدہ تصویر شیئر کی، جس میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی ان میں غیر معمولی دلچسپی رکھتی ہیں۔ اس تصویر کے ساتھ ٹرمپ نے طنزیہ انداز میں لکھا، "مجھے دور رہنے کا حکم درکار ہے”۔
اس پوسٹ کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے مختلف ردعمل دیکھنے میں آیا۔ بعض افراد نے اسے سیاسی مزاح قرار دیا، جبکہ متعدد صارفین، مبصرین اور سفارتی ماہرین نے اسے ایک اہم اتحادی ملک کی منتخب رہنما کے بارے میں غیر مناسب اور سفارتی آداب کے منافی قرار دیا۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے حساس وقت میں اس نوعیت کی پوسٹ دونوں ممالک کے تعلقات پر غیر ضروری دباؤ ڈال سکتی ہے، خصوصاً جب نیٹو اتحاد کو یوکرین جنگ، یورپی سلامتی اور عالمی چیلنجز جیسے اہم معاملات پر مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
سفارتی حلقوں کے مطابق ترکی میں ہونے والے نیٹو اجلاس کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ اور جارجیا میلونی کی ملاقات پر بھی سب کی نظریں مرکوز ہیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس متنازع پوسٹ کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان ماحول پہلے کے مقابلے میں زیادہ محتاط اور سرد رہ سکتا ہے۔
اب تک اطالوی حکومت یا وزیراعظم جارجیا میلونی کی جانب سے اس پوسٹ پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر معاملہ مزید بڑھتا ہے تو اٹلی کی جانب سے سفارتی سطح پر وضاحت یا احتجاج بھی سامنے آ سکتا ہے۔