پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید احمد المالکی نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے ملاقات کی، جس میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد خطے کی تازہ صورتحال، امن و استحکام اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے میں پیدا ہونے والی نئی صورتحال کا جائزہ لیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ مسائل کے حل کے لیے مکالمہ، سفارت کاری اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جانا ضروری ہے۔ دونوں جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ علاقائی امن اور استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
سعودی سفیر نواف بن سعید احمد المالکی نے پاکستان کی جانب سے خطے میں امن کے قیام کے لیے مسلسل سفارتی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے خاص طور پر آر فور فریم ورک کے تحت پاکستان کے کردار اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی کامیاب ثالثی میں پاکستان کی قیادت کو قابل قدر قرار دیا۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان تمام متعلقہ ممالک کے ساتھ مثبت سفارتی روابط اور تعمیری بات چیت کے ذریعے امن کے فروغ کا خواہاں ہے۔
دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انہیں مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری، معیشت، سفارت کاری اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ پاکستان اور سعودی عرب مختلف علاقائی اور بین الاقوامی امور پر قریبی مشاورت کا سلسلہ جاری رکھیں گے تاکہ مشترکہ مفادات کا تحفظ کیا جا سکے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مؤثر کردار ادا کیا جا سکے۔
ملاقات کو دونوں برادر ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات، باہمی اعتماد اور مشترکہ سفارتی وژن کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ مستقبل میں مختلف شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

سعودی سفیر کی اسحاق ڈار سے ملاقات، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال
-

کے ٹو ایئرویز طیارہ حادثہ، 11 رکنی تحقیقاتی ٹیم کراچی پہنچ گئی
کے ٹو ایئرویز کے کارگو طیارے کے حادثے کی تحقیقات کے لیے بیورو آف ایئر کرافٹ سیفٹی انویسٹی گیشن کی 11 رکنی خصوصی ٹیم کراچی پہنچ گئی ہے۔ تحقیقاتی ٹیم حادثے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گی اور شواہد کی بنیاد پر طیارہ حادثے کی اصل وجوہات معلوم کرنے کی کوشش کرے گی۔
ذرائع کے مطابق تحقیقاتی ٹیم اسلام آباد سے نجی ایئر لائن کی پرواز کے ذریعے کراچی پہنچی، جہاں سے ارکان فوری طور پر حادثے کے مقام کے لیے روانہ ہوئے۔ ٹیم جائے وقوعہ سے دستیاب شواہد، طیارے کے ملبے اور دیگر اہم مواد کا تفصیلی معائنہ کرے گی تاکہ حادثے سے متعلق تمام حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے تحقیقات کے پیش نظر کے ٹو ایئرویز کا مرکزی دفتر سیل کر دیا ہے۔ تحقیقاتی ٹیم ایئرلائن کے ہیڈ آفس کا بھی دورہ کرے گی، جہاں آپریشنل اور تکنیکی ریکارڈ کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔
تحقیقات کے دوران طیارے کی مینٹیننس لاگ بکس، انجینئرنگ ریکارڈ، پرواز سے متعلق دستاویزات، عملے کی پیشہ ورانہ معلومات، تربیتی ریکارڈ اور دیگر متعلقہ دستاویزات کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔ اس کے ساتھ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ پرواز سے قبل اور دوران پرواز قومی اور بین الاقوامی فضائی حفاظتی ضوابط پر مکمل عمل کیا گیا تھا یا نہیں۔
تحقیقاتی حکام فلائٹ پلان، ایئر ٹریفک کنٹرول کے ساتھ ہونے والی گفتگو، ریڈار ڈیٹا، نیویگیشن سسٹم کی کارکردگی اور دیگر تکنیکی معلومات کا بھی تجزیہ کریں گے تاکہ حادثے کے اسباب کا درست تعین کیا جا سکے۔ اگر ضرورت پڑی تو متعلقہ عملے اور عینی شواہد رکھنے والے افراد کے بیانات بھی قلم بند کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق تحقیقاتی ٹیم کو جدید تکنیکی سہولیات اور مکمل اختیارات فراہم کیے گئے ہیں تاکہ تحقیقات شفاف، غیر جانبدار اور پیشہ ورانہ انداز میں مکمل کی جا سکیں۔ ٹیم اپنی ابتدائی رپورٹ مرتب کرنے کے بعد وزارتِ دفاع کے متعلقہ حکام کو پیش کرے گی، جس کی روشنی میں آئندہ قانونی اور انتظامی اقدامات کیے جائیں گے۔ -

عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہوئیں تو فائدہ عوام تک پہنچائیں گے، وزیر پیٹرولیم
اسلام آباد: وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی ہوئی تو اس کا براہِ راست فائدہ عوام کو منتقل کیا جائے گا۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کے سامنے تمام حقائق رکھے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں دوبارہ جنگ سے پہلے والی سطح پر آ چکی ہیں، تاہم پاکستان جو ریفائن شدہ پیٹرول درآمد کرتا ہے، اس کی قیمت اب بھی جنگ سے قبل کے مقابلے میں تقریباً 15 ڈالر فی بیرل زیادہ ہے۔
علی پرویز ملک نے بتایا کہ پاکستان اپنی پیٹرول کی ضروریات کا تقریباً 70 سے 80 فیصد درآمد کرتا ہے، اسی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں ریفائن شدہ پیٹرول کی بلند قیمتوں کا براہِ راست اثر ملکی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی قیمتوں میں کمی کی گنجائش پیدا ہوئی، وزیراعظم نے عوام کو ریلیف دیا، اور آئندہ بھی عالمی قیمتوں میں مزید کمی آنے پر اس کا فائدہ صارفین تک ضرور پہنچایا جائے گا۔
وزیر پیٹرولیم نے حالیہ علاقائی کشیدگی اور جنگی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسٹریٹجک ذخائر محدود ہونے کے باوجود ملک میں تیل کی فراہمی کا نظام مؤثر انداز میں برقرار رکھا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں اسٹریٹجک آئل اسٹوریج کے قیام سے متعلق عالمی معیار کی ایک اسٹڈی جاری ہے، جس پر دو بین الاقوامی فرمز کام کر رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں تیل اور گیس کے نئے ذخائر کی تلاش کے لیے سرمایہ کاری ناگزیر ہے اور اگر متعلقہ کمپنیوں کو بروقت ادائیگیاں نہ کی جائیں تو وہ اپنی سرگرمیاں جاری نہیں رکھ سکتیں۔
واضح رہے کہ حکومت نے 4 جولائی کو پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر ایک روپے 97 پیسے کمی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 297 روپے 53 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی۔ -

شارجہ سے کراچی آنے والا کارگو طیارہ خلیج میں گر کر تباہ
پاکستان کی فضائی حدود کے قریب ایک افسوسناک واقعے میں شارجہ سے کراچی آنے والا کے ٹو ایئرویز کا کارگو طیارہ دوران پرواز خلیج میں ریڈار سے اچانک غائب ہوگیا، ابتدائی رپورٹ کے مطابق طیارہ گر کر تباہ ہو گیا ہے
کارگو طیارہ دورانِ پرواز ریڈار اور مواصلاتی نظام سے مکمل طور پر منقطع ہوگیا، جس کے بعد فوری طور پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا۔ حادثے کے وقت طیارے میں عملے کے پانچ افراد سوار تھے۔ترجمان کے مطابق نجی کمپنی کا کارگو طیارہ شارجہ سے کراچی آرہا تھا کہ دورانِ پرواز پائلٹ نے نیویگیشن سسٹم میں خرابی کی اطلاع دی۔ کراچی ایریا کنٹرول سینٹر نے فوری طور پر طیارے کو رہنمائی فراہم کی اور صورت حال کو معمول پر لانے کی کوشش کی، تاہم کچھ ہی دیر بعد طیارے کی پرواز میں غیر معمولی تبدیلی دیکھی گئی۔
ابتدائی معلومات کے مطابق طیارہ اچانک تیزی سے نیچے آنے لگا اور اس نے اپنی سمت بھی تبدیل کر لی۔ اس دوران ایئر ٹریفک کنٹرول نے بار بار طیارے سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن نہ صرف ریڈیو رابطہ منقطع ہوگیا بلکہ طیارہ ریڈار اسکرین سے بھی غائب ہوگیا۔ابتدائی معلومات کے مطابق کیپٹن رضوان اور کیپٹن جتوئی طیارے کے پائلٹس میں شامل تھے۔
پی اے اے کے مطابق طیارہ کراچی سے تقریباً 155 ناٹیکل میل مغرب میں ریڈار سے غائب ہوا۔ واقعے کے فوراً بعد ریسکیو کوآرڈینیشن سینٹر کو فعال کر دیا گیا اور سمندر میں وسیع پیمانے پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا گیا۔
ترجمان نے بتایا کہ لاپتا طیارے کی تلاش میں متعدد قومی ادارے حصہ لے رہے ہیں۔ بحری اور فضائی وسائل کو بھی سرچ آپریشن میں شامل کیا گیا ہے تاکہ طیارے اور اس میں سوار عملے کا جلد از جلد سراغ لگایا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے باقاعدہ تحقیقات کی جائیں گی۔ ابتدائی طور پر نیویگیشن سسٹم میں خرابی اور بعد ازاں طیارے کے اچانک بلندی کھونے کے واقعے کو تحقیق کا اہم حصہ بنایا جائے گا۔ پی اے اے نے کہا ہے کہ جیسے ہی مزید مصدقہ معلومات سامنے آئیں گی، انہیں عوام اور میڈیا کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔اس افسوسناک واقعے کے بعد فضائی شعبے سے وابستہ اداروں میں تشویش پائی جا رہی ہے، جبکہ متاثرہ عملے کے اہل خانہ بھی مزید معلومات کے منتظر ہیں۔ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے اور حکام کو امید ہے کہ جلد مزید تفصیلات سامنے آئیں گی۔
-

حکومت کا گیس کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ، عوام کو ریلیف نہ دینے کا اعلان
اسلام آباد: حکومت نے مالی سال 2026-27 کے دوران عوام کے لیے گیس کی قیمتوں میں کمی نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا، حالانکہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے گیس کمپنیوں کے لیے اوسط مقررہ قیمت میں کمی کی منظوری دے دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پیٹرولیم ڈویژن کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ اوگرا نے سوئی سدرن گیس کمپنی اور سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کے لیے اوسط مقررہ قیمت 1,793 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو سے کم کر کے 1,705 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ریگولیٹری سطح پر لاگت میں کمی کے باوجود وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ مالی سال 2026-27 میں گھریلو اور دیگر صارفین کے لیے گیس کے موجودہ نرخ برقرار رکھے جائیں گے اور قیمتوں میں کسی قسم کی کمی نہیں کی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا بنیادی مقصد دونوں سرکاری گیس کمپنیوں کی مالی پوزیشن کو مستحکم رکھنا، ان کے مالی خسارے کو کم کرنا اور توانائی کے شعبے میں مالی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ موجودہ نرخ برقرار رکھنے سے کمپنیوں کو اپنے مالی معاملات بہتر انداز میں چلانے میں مدد ملے گی۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے اس فیصلے سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو بھی باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے، کیونکہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور قیمتوں سے متعلق پالیسی اقدامات آئی ایم ایف پروگرام کا اہم حصہ ہیں۔
گیس نرخ برقرار رکھنے کے فیصلے سے صارفین کو فوری ریلیف نہیں ملے گا، تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام توانائی کے شعبے کی مالی پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔ -

10 ملین سے زائد سیونگ اکاؤنٹس پر منافع کی ضمانت ختم، اسٹیٹ بینک کے نئے قواعد جاری
کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بینکنگ ضوابط میں اہم تبدیلیاں متعارف کرا دی ہیں، جن کے تحت زیادہ مالیت والے سیونگ اکاؤنٹس رکھنے والے صارفین کے لیے منافع سے متعلق قواعد تبدیل کر دیے گئے ہیں۔ نئے فیصلے کا اطلاق خاص طور پر ان افراد پر ہوگا جن کے سیونگ اکاؤنٹس میں ایک کروڑ روپے (10 ملین) سے زائد رقم موجود ہے۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری سرکلر کے مطابق اب بینک ایک کروڑ روپے سے زائد بیلنس رکھنے والے سیونگ اکاؤنٹس پر منافع کی ضمانت دینے کے پابند نہیں ہوں گے۔ اس فیصلے کے بعد ایسے کھاتہ داروں کو پہلے کی طرح یقینی منافع نہیں مل سکے گا، جبکہ بینک اپنی پالیسی اور مارکیٹ کی صورتحال کے مطابق منافع کی شرح کا تعین کر سکیں گے۔
اسٹیٹ بینک نے یہ تبدیلیاں نئے "انویسٹ پاک ڈیجیٹل” پروگرام کے ساتھ متعارف کرائی ہیں، جس کا مقصد بڑے سرمایہ کاروں کو روایتی سیونگ اکاؤنٹس کے بجائے دیگر سرمایہ کاری کے ذرائع کی جانب راغب کرنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور مالیاتی نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے گا۔
ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے بینکوں کو اپنے ڈپازٹس کے بہتر انتظام میں سہولت ملے گی، جبکہ زیادہ سرمایہ رکھنے والے افراد متبادل سرمایہ کاری کے منصوبوں پر غور کرنے کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں سرمایہ مختلف مالیاتی شعبوں میں منتقل ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اسٹیٹ بینک نے بینکوں اور صارفین کو جاری ہدایات میں واضح کیا ہے کہ نئے قواعد کا مقصد مالیاتی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے نئی راہیں ہموار کرنا ہے۔ تاہم عام سیونگ اکاؤنٹس رکھنے والے صارفین، جن کے اکاؤنٹس میں ایک کروڑ روپے سے کم رقم موجود ہے، ان پر ان تبدیلیوں کا اطلاق نہیں ہوگا اور ان کے لیے موجودہ قواعد برقرار رہیں گے۔
مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ مالیت والے کھاتہ داروں کو اب اپنی سرمایہ کاری کی حکمت عملی پر نظرثانی کرتے ہوئے مختلف مالیاتی مصنوعات اور سرمایہ کاری کے متبادل ذرائع کا جائزہ لینا چاہیے تاکہ بہتر منافع حاصل کیا جا سکے۔ -

پرنس ہیری کو بڑا قانونی دھچکا، ڈیلی میل کے خلاف پرائیویسی کیس خارج
برطانیہ کے شہزادہ ہیری اور ان کے دیگر شریک مدعیان کو ڈیلی میل کے ناشر ایسوسی ایٹڈ نیوز پیپرز لمیٹڈ (ANL) کے خلاف دائر کیے گئے پرائیویسی مقدمے میں بڑا قانونی دھچکا لگا ہے۔ ہائی کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے تمام دعوے مسترد کر دیے۔
436 صفحات پر مشتمل فیصلے کے خلاصے میں جسٹس نکلن نے کہا کہ مدعیان یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ اخبار نے غیر قانونی ذرائع سے معلومات حاصل کیں۔ عدالت کے مطابق پیش کیے گئے شواہد ان الزامات کو ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں تھے، اس لیے تمام دعوے خارج کیے جاتے ہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ مدعیان نے وسیع مفروضوں کی بنیاد پر اپنے الزامات ثابت کرنے کی کوشش کی، جبکہ متعدد معاملات میں معلومات کے قانونی ذرائع موجود تھے یا ہر خبر کے حوالے سے ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا جس سے یہ ثابت ہو کہ معلومات لازماً غیر قانونی طریقے سے حاصل کی گئی تھیں۔
دوسری جانب ایسوسی ایٹڈ نیوز پیپرز لمیٹڈ کا مؤقف تھا کہ اس نے تمام خبریں جائز اور قانونی ذرائع سے حاصل کیں۔ کمپنی نے یہ بھی استدلال پیش کیا کہ مقدمہ قانونی مدت ختم ہونے کے بعد دائر کیا گیا، کیونکہ ایسے دعووں کے لیے برطانوی قانون کے تحت چھ سال کی مدت مقرر ہے۔
مدعیان نے عدالت سے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اخبار نے مبینہ طور پر حقائق کو جان بوجھ کر چھپایا، اسی وجہ سے قانونی مدت کا استثنا لاگو ہونا چاہیے۔ تاہم جسٹس نکلن نے کہا کہ چونکہ مقدمہ اپنی بنیادی حیثیت میں ہی قابلِ قبول ثابت نہیں ہوا، اس لیے قانونی مدت کے نکتے پر تفصیلی فیصلہ دینا ضروری نہیں رہا۔
اس فیصلے کو برطانیہ میں میڈیا کی آزادی اور پرائیویسی سے متعلق مقدمات کے تناظر میں ایک اہم قانونی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ -

لیبیا سے بے دخل 175 پاکستانیوں کا کیس، ایف آئی اے نے 48 مقدمات درج کر لیے
لیبیا سے یورپ جانے کی کوشش کے دوران بے دخل کیے گئے 175 پاکستانی شہریوں کے معاملے میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے کارروائیاں تیز کرتے ہوئے 48 مقدمات درج کر لیے ہیں، جبکہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایجنٹس اور دیگر افراد کے خلاف تحقیقات کا دائرہ بھی وسیع کر دیا گیا ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق ملک بھر کے سات مختلف زونز میں قائم اینٹی ہیومن اسمگلنگ سیلز نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ مقدمات میں بے دخل کیے گئے افراد کے ساتھ ساتھ انہیں بیرون ملک بھیجنے والے متعدد ایجنٹس کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔
گوجرانوالہ زون میں سب سے زیادہ 24 مقدمات درج کیے گئے، جن میں 49 بے دخل افراد اور 37 ایجنٹس کو نامزد کیا گیا ہے۔ اسلام آباد اور کوہاٹ زون میں 9، 9 مقدمات درج ہوئے، جن میں مجموعی طور پر 73 نوجوانوں اور متعلقہ ایجنٹس کو شامل کیا گیا ہے۔
فیصل آباد زون میں 3 مقدمات درج کیے گئے، جن میں 24 بے دخل افراد اور 11 ایجنٹس نامزد ہیں، جبکہ لاہور میں 2 مقدمات میں وطن واپس آنے والے 9 افراد اور 11 ایجنٹس کے خلاف کارروائی شروع کی گئی ہے۔
اسی طرح پشاور اور کراچی میں ایک، ایک مقدمہ درج کیا گیا، جن میں مجموعی طور پر 44 بے دخل افراد اور 26 ایجنٹس کو نامزد کیا گیا ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق تمام 175 پاکستانی لیبیا کے ویزے پر وہاں پہنچے تھے اور ان کا مقصد کشتیوں کے ذریعے غیر قانونی طور پر یورپ جانا تھا۔ تاہم لیبی حکام نے قانونی جواز نہ ہونے پر انہیں حراست میں لے لیا اور بعد ازاں 25 مئی کو خصوصی چارٹرڈ پرواز کے ذریعے پاکستان واپس بھیج دیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف تحقیقات جاری ہیں اور ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ -

غذر میں طوفانی بارشوں سے تباہی، دماس میں سیلابی ریلے گھروں اور بازاروں میں داخل
غذر: گلگت بلتستان کے ضلع غذر کے مرکزی علاقے گاہ کوچ کے نواحی گاؤں دماس میں طوفانی بارشوں کے بعد آنے والے سیلابی ریلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔ تیز بارش کے باعث پانی آبادی، بازاروں اور زرعی علاقوں میں داخل ہوگیا، جس سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے۔
مقامی ذرائع کے مطابق اچانک آنے والے سیلابی ریلوں نے متعدد گھروں اور دکانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جبکہ نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی مقامات پر آمد و رفت بھی متاثر ہوئی۔
شدید بارشوں کے باعث کھڑی فصلوں، باغات اور زرعی زمینوں کو بھی نمایاں نقصان پہنچا ہے، جس سے مقامی کاشتکاروں کو بھاری مالی خسارے کا خدشہ ہے۔ متاثرین نے حکومت سے فوری امداد اور نقصانات کے ازالے کا مطالبہ کیا ہے۔
انتظامیہ اور متعلقہ اداروں نے متاثرہ علاقوں کی صورتحال کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے، جبکہ ممکنہ مزید بارشوں کے پیش نظر شہریوں کو احتیاط برتنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر بروقت حفاظتی اقدامات اور نکاسی آب کے مؤثر انتظامات نہ کیے گئے تو مزید بارشوں کی صورت میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ -

پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے خلاف جماعت اسلامی کا 10 جولائی کو ملک گیر احتجاج کا اعلان
لاہور: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے اور نئے لیوی ٹیکس کے نفاذ کے خلاف جماعت اسلامی نے 10 جولائی کو ملک بھر میں احتجاج، مظاہروں اور دھرنوں کا اعلان کر دیا ہے۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ عوام پر بڑھتے ہوئے معاشی بوجھ کے خلاف ملک گیر احتجاج کیا جائے گا تاکہ حکومت پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک کے مختلف شہروں میں پرامن مظاہروں اور دھرنوں کے ذریعے عوامی آواز بلند کرے گی۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت کی حالیہ معاشی پالیسیوں نے عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ان کے مطابق مہنگائی پہلے ہی عوام کی قوت خرید کو شدید متاثر کر چکی ہے، جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہر شعبہ زندگی پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسان، مزدور، طلبہ اور متوسط طبقہ پہلے ہی مہنگائی کے دباؤ کا شکار ہیں، ایسے میں نئے ٹیکس اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے ان کی مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو فوری طور پر عوامی ریلیف کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ پیٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے اور حکومت کو لیوی ٹیکس میں اضافے کا فیصلہ واپس لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عوام مزید معاشی بوجھ برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ 10 جولائی کو ہونے والے احتجاج میں بھرپور شرکت کریں تاکہ حکومت تک عوام کی آواز مؤثر انداز میں پہنچائی جا سکے۔ جماعت اسلامی کے مطابق احتجاج کا مقصد عوامی مسائل کو اجاگر کرنا اور مہنگائی کے خلاف مؤثر آواز بلند کرنا ہے۔