برطانیہ کے شہزادہ ہیری اور ان کے دیگر شریک مدعیان کو ڈیلی میل کے ناشر ایسوسی ایٹڈ نیوز پیپرز لمیٹڈ (ANL) کے خلاف دائر کیے گئے پرائیویسی مقدمے میں بڑا قانونی دھچکا لگا ہے۔ ہائی کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے تمام دعوے مسترد کر دیے۔
436 صفحات پر مشتمل فیصلے کے خلاصے میں جسٹس نکلن نے کہا کہ مدعیان یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ اخبار نے غیر قانونی ذرائع سے معلومات حاصل کیں۔ عدالت کے مطابق پیش کیے گئے شواہد ان الزامات کو ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں تھے، اس لیے تمام دعوے خارج کیے جاتے ہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ مدعیان نے وسیع مفروضوں کی بنیاد پر اپنے الزامات ثابت کرنے کی کوشش کی، جبکہ متعدد معاملات میں معلومات کے قانونی ذرائع موجود تھے یا ہر خبر کے حوالے سے ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا جس سے یہ ثابت ہو کہ معلومات لازماً غیر قانونی طریقے سے حاصل کی گئی تھیں۔
دوسری جانب ایسوسی ایٹڈ نیوز پیپرز لمیٹڈ کا مؤقف تھا کہ اس نے تمام خبریں جائز اور قانونی ذرائع سے حاصل کیں۔ کمپنی نے یہ بھی استدلال پیش کیا کہ مقدمہ قانونی مدت ختم ہونے کے بعد دائر کیا گیا، کیونکہ ایسے دعووں کے لیے برطانوی قانون کے تحت چھ سال کی مدت مقرر ہے۔
مدعیان نے عدالت سے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اخبار نے مبینہ طور پر حقائق کو جان بوجھ کر چھپایا، اسی وجہ سے قانونی مدت کا استثنا لاگو ہونا چاہیے۔ تاہم جسٹس نکلن نے کہا کہ چونکہ مقدمہ اپنی بنیادی حیثیت میں ہی قابلِ قبول ثابت نہیں ہوا، اس لیے قانونی مدت کے نکتے پر تفصیلی فیصلہ دینا ضروری نہیں رہا۔
اس فیصلے کو برطانیہ میں میڈیا کی آزادی اور پرائیویسی سے متعلق مقدمات کے تناظر میں ایک اہم قانونی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
پرنس ہیری کو بڑا قانونی دھچکا، ڈیلی میل کے خلاف پرائیویسی کیس خارج
