امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی سے متعلق ایک متنازع سوشل میڈیا پوسٹ نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ پوسٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں رہنما ترکی میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے موجود ہیں، جس کے باعث سفارتی حلقوں میں بھی اس معاملے پر خاصی توجہ دی جا رہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک ترمیم شدہ تصویر شیئر کی، جس میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی ان میں غیر معمولی دلچسپی رکھتی ہیں۔ اس تصویر کے ساتھ ٹرمپ نے طنزیہ انداز میں لکھا، "مجھے دور رہنے کا حکم درکار ہے”۔
اس پوسٹ کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے مختلف ردعمل دیکھنے میں آیا۔ بعض افراد نے اسے سیاسی مزاح قرار دیا، جبکہ متعدد صارفین، مبصرین اور سفارتی ماہرین نے اسے ایک اہم اتحادی ملک کی منتخب رہنما کے بارے میں غیر مناسب اور سفارتی آداب کے منافی قرار دیا۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے حساس وقت میں اس نوعیت کی پوسٹ دونوں ممالک کے تعلقات پر غیر ضروری دباؤ ڈال سکتی ہے، خصوصاً جب نیٹو اتحاد کو یوکرین جنگ، یورپی سلامتی اور عالمی چیلنجز جیسے اہم معاملات پر مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
سفارتی حلقوں کے مطابق ترکی میں ہونے والے نیٹو اجلاس کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ اور جارجیا میلونی کی ملاقات پر بھی سب کی نظریں مرکوز ہیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس متنازع پوسٹ کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان ماحول پہلے کے مقابلے میں زیادہ محتاط اور سرد رہ سکتا ہے۔
اب تک اطالوی حکومت یا وزیراعظم جارجیا میلونی کی جانب سے اس پوسٹ پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر معاملہ مزید بڑھتا ہے تو اٹلی کی جانب سے سفارتی سطح پر وضاحت یا احتجاج بھی سامنے آ سکتا ہے۔
ٹرمپ کی اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی سے متعلق متنازع پوسٹ، سوشل میڈیا پر ہنگامہ
