لاہور: پنجاب پولیس میں بڑے پیمانے پر انتظامی ردوبدل کرتے ہوئے 15 سینئر پولیس افسران کے تبادلوں اور نئی تعیناتیوں کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب کی منظوری کے بعد سینٹرل پولیس آفس کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق ان تبادلوں کا مقصد صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانا، پولیس کی انتظامی کارکردگی میں بہتری لانا اور فیلڈ آپریشنز کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔
نوٹیفکیشن کے تحت محمد سرفراز ورک کو اے آئی جی آپریشنز سی پی او لاہور تعینات کیا گیا ہے، جبکہ زاہد نواز کو اس عہدے سے تبدیل کر کے ایس ایس پی پولیس اسکول آف انٹیلی جنس لاہور تعینات کر دیا گیا ہے۔
جہانداد اکرم کو ایس پی سی سی ڈی تھری لاہور سے تبدیل کر کے ایس پی سی سی ڈی ڈی جی خان ریجن تعینات کیا گیا ہے، جبکہ عادل عامر کو ڈی جی خان ریجن سے تبدیل کر کے سی پی او لاہور رپورٹ کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
سعد عفیدی کو ایس پی انویسٹی گیشن ننکانہ صاحب مقرر کیا گیا ہے، جبکہ شوکت علی شیخ کو وہاں سے تبدیل کر کے ایڈیشنل ڈائریکٹر سینٹرل ون، اسپیشل پروٹیکشن یونٹ لاہور تعینات کر دیا گیا ہے۔
محمد نعمان ظفر کو ایڈیشنل ایس پی صدر ڈویژن ملتان، محمد منیر بدر کو ایس پی انویسٹی گیشن لودھراں اور ظفر جاوید ملک کو ایس پی آپریشنز ڈی آئی سی تھری اوکاڑہ تعینات کیا گیا ہے۔
رضا اللہ خان کو اٹک و حسن ابدال سے تبدیل کر کے ایس پی آپریشنز ڈی آئی سی تھری جھنگ مقرر کیا گیا ہے۔ انہیں اپنے موجودہ فرائض کے ساتھ ساتھ ایس ایس پی آپریشنز آئی سی تھری فیصل آباد ریجن کا اضافی چارج بھی سونپا گیا ہے۔
مزید تبادلوں کے تحت محمد عیسیٰ خان کو ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن ایلیٹ پولیس فورس لاہور تعینات کیا گیا، جبکہ حسن افضل کو اس عہدے سے تبدیل کر کے سی پی او رپورٹ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
اسی طرح حسن رضا کو ایس ایس پی آر آئی بی ملتان ریجن، فرخ جاوید کو ایس پی انویسٹی گیشن بہاولپور اور سید جمشید علی کو بٹالین کمانڈر تھری پی سی ملتان تعینات کیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق تمام افسران کو فوری طور پر اپنے نئے عہدوں کا چارج سنبھالنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ تبادلے پولیس کے انتظامی ڈھانچے کو مزید مؤثر بنانے اور عوام کو بہتر سیکیورٹی اور پولیسنگ کی سہولت فراہم کرنے کے لیے کیے گئے ہیں۔
پنجاب پولیس میں بڑے پیمانے پر تبادلے، 15 اعلیٰ افسران نئی ذمہ داریوں پر تعینات
