Baaghi TV

فوجی بھرتی کے خلاف اسرائیل میں احتجاج، گرفتاریاں بھی شروع

‎اسرائیل میں فوج میں لازمی بھرتی سے انکار کرنے والوں کی گرفتاریوں کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ مظاہرین نے فوجی حراستی مرکز کے باہر جمع ہو کر حکومت کی پالیسی کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور گرفتار افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
‎غیر ملکی میڈیا کے مطابق تل ابیب سے تقریباً 30 کلومیٹر دور واقع بیت لید فوجی اڈے کے سامنے بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہوئے۔ احتجاج میں شریک افراد نے فوجی بھرتی کی مخالفت کرتے ہوئے "مر جائیں گے مگر فوج میں نہیں جائیں گے” کے نعرے لگائے اور حکومت سے جبری بھرتی کی پالیسی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
‎مظاہرین کا کہنا تھا کہ فوجی خدمت سے انکار کرنے والے افراد کو گرفتار کرنا بنیادی شہری آزادیوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے تمام افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور اختلاف رائے رکھنے والوں کے خلاف کارروائیاں بند کی جائیں۔
‎احتجاج کے دوران سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور پولیس و دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بڑی تعداد میں موقع پر موجود رہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
‎اسرائیل میں لازمی فوجی خدمت کا قانون طویل عرصے سے سیاسی اور سماجی بحث کا موضوع رہا ہے۔ مختلف مذہبی، سماجی اور سیاسی حلقے اس قانون پر اپنے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں، جبکہ حالیہ گرفتاریوں کے بعد اس معاملے پر عوامی ردعمل مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
‎سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال اسرائیلی حکومت کے لیے ایک نیا داخلی چیلنج بن سکتی ہے، کیونکہ ایک طرف ملک کو سکیورٹی خدشات کا سامنا ہے جبکہ دوسری جانب لازمی فوجی بھرتی کے خلاف عوامی احتجاج میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

More posts