Baaghi TV

‎قومی اسمبلی سے فنانس بل 2026 منظور، یکم جولائی سے نئے ٹیکس نافذ

pak

‎اسلام آباد: قومی اسمبلی نے نئے مالی سال کے لیے فنانس بل 2026 کثرت رائے سے منظور کر لیا ہے، جس کے بعد یکم جولائی سے ملک بھر میں نئی ٹیکس اور مالیاتی پالیسی نافذ ہو جائے گی۔ بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی تمام ترامیم کو ایوان نے مسترد کر دیا، جبکہ وفاقی وزیر خزانہ کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو منظوری دے دی گئی۔
‎فنانس بل کے مطابق سالانہ 6 لاکھ روپے تک آمدن رکھنے والے افراد کو انکم ٹیکس سے استثنا حاصل ہوگا، جبکہ اس سے زائد آمدن والے افراد کے لیے نئے ٹیکس سلیب متعارف کرائے گئے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ نئے نظام کا مقصد ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا اور محصولات میں اضافہ کرنا ہے۔
‎بل کے تحت ملک بھر میں جائیداد کی خرید و فروخت پر نئے ایڈوانس ٹیکس نافذ کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ یوٹیوب، فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدن پر 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔
‎فنانس بل میں درآمدی گاڑیوں اور الیکٹرک وہیکلز سے متعلق ڈیوٹی کے نئے ضوابط بھی شامل کیے گئے ہیں۔ بعض اقسام کی گاڑیوں پر ڈیوٹی میں کمی کی گئی ہے، جبکہ مہنگی درآمدی اور بڑی الیکٹرک گاڑیوں پر نئی کسٹم ڈیوٹیز عائد کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔
‎یکم جولائی سے تمام ٹیکس دہندگان کے لیے انکم ٹیکس ریٹرن صرف آن لائن جمع کرانا لازمی ہوگا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ٹیکس نظام کو مزید شفاف اور مؤثر بنایا جا سکے گا۔
‎ٹیکس چوری کی روک تھام کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو مزید اختیارات بھی دے دیے گئے ہیں۔ نئے قانون کے مطابق ایف بی آر کے نوٹس پر عمل نہ کرنے، مانیٹرنگ سسٹم کو نقصان پہنچانے یا اسے غیر فعال کرنے والوں کے خلاف بھاری جرمانوں کے ساتھ قید کی سزائیں بھی دی جا سکیں گی۔
‎فنانس بل میں مختلف فلاحی اداروں اور ویلفیئر تنظیموں کو ٹیکس میں خصوصی رعایتیں دی گئی ہیں، جبکہ بعض بڑے کاروباری شعبوں اور کمپنیوں پر اضافی ٹیکس عائد کرنے کی منظوری بھی شامل ہے۔
‎فنانس بل کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس کل صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

More posts