غزہ: غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ کارروائی میں اسرائیلی فوج نے خان یونس میں ایک چلتی گاڑی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں امدادی کارکن میسرہ خواجہ شہید ہو گئے۔ فلسطینی حکام کے مطابق حملے کے وقت وہ انسانی امداد سے متعلق فرائض انجام دے رہے تھے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ کے مختلف علاقوں میں متعدد حملے کیے گئے، جن میں کم از کم 10 فلسطینی شہید ہوئے۔ حملوں کے بعد متاثرہ علاقوں میں ریسکیو ٹیموں نے امدادی کارروائیاں شروع کر دیں جبکہ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی اسرائیلی کارروائیاں نہیں رکیں۔ ان کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 1,021 فلسطینی شہید جبکہ 3 ہزار سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ حکام نے ان حملوں کو جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
خان یونس اور دیگر متاثرہ علاقوں میں رہائشیوں کا کہنا ہے کہ مسلسل فضائی حملوں کے باعث شہری شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں، جبکہ انسانی امدادی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ امدادی اداروں نے شہریوں کے تحفظ اور امدادی کارکنوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر غزہ میں بڑھتی ہوئی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مختلف عالمی ادارے جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد، شہریوں کے تحفظ اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
غزہ میں اسرائیلی حملہ، امدادی کارکن میسرہ خواجہ شہید
