تل ابیب: اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل کو اپنی دفاعی ضروریات کے لیے امریکی اسلحے پر انحصار کم کر کے خودمختار اسلحہ سازی کا نظام قائم کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ جاری تنازع میں کامیابی کا انحصار اسرائیل کی اپنی فوجی طاقت اور دفاعی صلاحیتوں پر ہے۔
اپنے بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل برسوں سے امریکا کی جانب سے ملنے والی فوجی اور دفاعی معاونت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ ملک اپنے دفاعی شعبے کو مزید خودکفیل بنائے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو جدید ہتھیاروں کی تیاری میں خود انحصاری حاصل کرنا ہوگی تاکہ مستقبل میں کسی بھی بیرونی سپلائی یا امداد پر انحصار کم سے کم ہو۔ ان کے مطابق ایک مضبوط اور خودمختار دفاعی صنعت ہی اسرائیل کی طویل مدتی سلامتی کی ضمانت بن سکتی ہے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ ایران اور اس کے اتحادی گروہوں کے ساتھ جاری کشیدگی ابھی ختم نہیں ہوئی اور آئندہ حالات کا انحصار اسرائیل کی عسکری تیاری، جدید ٹیکنالوجی اور دفاعی صلاحیتوں پر ہوگا۔
اسرائیلی وزیراعظم نے مزید کہا کہ ملکی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے مقامی سطح پر ہتھیاروں کی تیاری، تحقیق اور جدید دفاعی نظاموں میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے مستقبل میں زیادہ سے زیادہ مقامی دفاعی صنعت پر بھروسا کرنا ہوگا۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر عالمی برادری گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
نیتن یاہو کا امریکی اسلحے پر انحصار ختم کرنے کا اعلان
