فرانس کے جنوب میں واقع دنیا کے مشہور نیوڈسٹ (برہنہ طرزِ زندگی کے حامل) سیاحتی مقام Cap d’Agde ایک نئے تنازع کا شکار ہو گیا ہے، جہاں طویل عرصے سے آنے والے سیاحوں کا کہنا ہے کہ ریزورٹ کا ماحول تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔
یہ ریزورٹ، جو طویل عرصے سے فطری طرزِ زندگی (نیچر ازم) کے شوقین افراد کے لیے ایک پرامن مقام سمجھا جاتا تھا، اب مبینہ طور پر ایک مختلف نوعیت کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، حالیہ برسوں میں یہاں آنے والے “لائف اسٹائل وزیٹرز” کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جن کا رویہ روایتی نیوڈسٹ کلچر سے مختلف بتایا جا رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق یہ مقام، جو کبھی قدرتی اور آزاد طرزِ زندگی کے لیے جانا جاتا تھا، اب ایسے بین الاقوامی سیاحوں سے بھر گیا ہے جو مختلف “لائف اسٹائل” سرگرمیوں کے لیے یہاں آتے ہیں،ساحل سمندر پر جنسی حرکات میں ملوث ہونے کے لیے بدنام ہیں۔ پرانے وزیٹرز کا دعویٰ ہے کہ اس تبدیلی نے ریزورٹ کی اصل شناخت کو متاثر کیا ہے اور یہاں آنے والے روایتی نیوڈسٹ افراد اور نئے آنے والے سیاحوں کے درمیان واضح فرق پیدا ہو گیا ہے۔
ایک برطانوی خاتون سیاح، باربرا، جو گزشتہ 30 برسوں سے اپنے شوہر کے ساتھ اس مقام کا رخ کرتی رہی ہیں، نے میڈیا کو بتایا کہ“جب ہم نے یہاں آنا شروع کیا تھا تو ماحول بالکل مختلف تھا، لیکن اب یہاں آنے والے لوگوں کا رویہ اور مقاصد کافی حد تک بدل چکے ہیں۔”انہوں نے بتایا کہ “انٹرنیشنل سوئنگرز” کی آمد کے بعد ریزورٹ میں واضح تقسیم دیکھنے میں آ رہی ہے، جہاں روایتی نیوڈسٹ اور نئے طرز کے سیاح الگ الگ سرگرمیوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔ ان کے مطابق تقریباً 60 فیصد افراد نیوڈسٹ جبکہ 40 فیصد نئے لائف اسٹائل گروپس سے تعلق رکھتے ہیں۔مقامی رہائشیوں اور پرانے وزیٹرز کا کہنا ہے کہ ساحل کے کچھ حصوں میں غیر مناسب سرگرمیوں کی شکایات سامنے آئی ہیں، جس سے علاقے کی اصل شناخت متاثر ہو رہی ہے۔ ایک رپورٹر نے اپنے مشاہدے میں بتایا کہ بعض مقامات پر عوامی رویے روایتی حدود سے تجاوز کرتے دکھائی دیتے ہیں، جس سے دیگر سیاحوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
رپورٹر ولیم جے فرنی نے اس جنس کو بیان کیا جس کا مشاہدہ مقامی ساحل پر باقاعدگی سے کیا جا سکتا ہے "لمبے، سرمئی بالوں والی ایک عورت، اس کے اوپر ایک نرم مزاج آدمی ہے۔”دونوں کو ایک دوسرے کے اتنے قریب دیکھ کر برہنہ مردوں کے درمیان ایک فوری، تقریباً جنونی ردعمل پیدا ہوا جو اس طرح کی کارروائی کے لیے مسلسل تلاش میں تھے۔”

Cap d’Agde کو “نیکڈ سٹی” بھی کہا جاتا ہے، جہاں لوگ عام طور پر بغیر کپڑوں کے گھومتے پھرتے اور مختلف سہولیات سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ تاہم، حالیہ برسوں میں بعض سیاحوں کے غیر مناسب رویوں کے باعث شکایات میں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر ساحل کے علاقوں میں۔حکام کی جانب سے “غیر مہذب نمائش” کے خلاف انتباہی سائن بورڈز اور جرمانوں کے باوجود، مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا خاطر خواہ اثر نہیں ہو رہا۔
باربرا کے مطابق اب وہ صرف گرمیوں کے موسم میں ہی یہاں آتی ہیں اور اس دوران بھی ساحل پر جانے سے گریز کرتی ہیں۔“گرمیوں میں سیکیورٹی، لائف گارڈز اور پولیس ہر وقت موجود رہتی ہے، لیکن اس کے باوجود صورتحال مکمل طور پر قابو میں نہیں آتی،”
سیاحتی عروج کے موسم میں Cap d’Agde میں روزانہ تقریباً 40 ہزار افراد آتے ہیں، جس کی وجہ سے انتظامیہ پر دباؤ بھی بڑھ گیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو اس مشہور ریزورٹ کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے، اور انتظامیہ کو سیاحتی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا پڑ سکتی ہے تاکہ مقام کی اصل شناخت کو برقرار رکھا جا سکے۔
